ایس این سی لاویلن کے سابق سی ای او نے کمپنی اور خود کے حوالے سے لگنے والے الزامات کو مسترد کردیا
ایس این سی لاویلن کے سابق سی ای او نے نامعلوم کمپنی انسائڈر کی جانب سے
لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا ۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ انکی
مدت میں کینیڈا سے ٹیکس ادا کرنے والوں کی حمایت میں قرضے رشوت کی ادائیگی
میں ا ستعمال ہوئے ہیں۔
مقامی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ژاک لمار کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو
پیچھے بات کرتے ہیں وہ ڈرپوک ہوتے ہیں۔ مقامی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں
دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی بیرون ملک رشوتوں کیلئے رقم بجٹ میں چھپاتی ہے جو کہ
ایکسپورٹ ڈولپمنٹ کینیڈا سے سرمایہ کاری کیلئے درخواستوں میں ٹیکنیکل فیس
کے بھیس میں نظر آتی ہے۔ای ڈی سی ایک کراؤن ایجنسی ہے جو کہ دیگر ممالک میں
کام کرنے والی کینیڈین کمپنیوں کو مالی خدمات اور انشورنس فراہم کرتی ہے ،
گزشتہ 25سالوں سے ای ڈی سی ایس این سیلاویلن کو قرضوں کی صورت میں 4.7بلین
ڈالر فراہم کرچکی ہے۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ انسائڈرسے اس دعوے نے ایس این
سی لاویلن کے ساتھ کم از کم ایک سابقہ معاہدے کا جائزہ لینے کیلئے بیرونی
قانونی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔