سی ٹی ڈی تمام گواہیوں
کویکسر نظر انداز کر رہا ہے، گرفتار ملزمان کا مجسٹریٹ کے سامنے بیان
ریکارڈ نہیں کیا ، تفتیشی ادارے سے کوئی امید نہیں ہے،والدہ علی رضا عابدی
مقتول سابق رکن قومی اسمبلی علی رضاعابدی کی والدہ نے بیٹے کے قتل کی تفتیش پر سوالات اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کی والدہ کی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیٹے کے قتل کی تفتیش پر سوالات اٹھا دیے اور چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔
علی رضا عابدی کی والدہ نے کہا سی ٹی ڈی تمام گواہیوں کویکسر نظر انداز کر رہا ہے، گرفتار ملزمان کا مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ نہیں کیا ، تفتیشی ادارے سے کوئی امید نہیں ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا ایک اعلی سطح کی تفتیشی ٹیم تشکیل دی جائے ، عینی شاہد کو گواہان میں شامل نہ کرنا سوالیہ نشان پیدا کر رہا ہے ، سی ٹی ڈی آخر کیوں گواہان کو نظر انداز کر رہا ہے۔
اس حوالے سے ایم کیو ام تنظیم بچاؤ کمیٹی کے سربراہ ڈاکتر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ،وزیر اعلیٰ سندھ اور متعلقہ حکام کو آپس میں بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔
فاروق ستار کا مزیدکہنا تھا کہ خالد مقبول صدیقی ،مصطفیٰ کمال اور دیگر رہنماؤں فون پر بات کروں گا علی رضا عابدی کے قاتل اگر گرفتار نہ ہوئے تو پھر ملک میں کوئی بھی شریف شہری محفوظ نہیں ہے۔