کراچی،سانحہ سجھوتہ ایکسپریس پر بھاتی عدالتی فیصلے کےخلاف احتجاج
سماجی کارکن ریحان صدیقی کا کہنا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کے شہدا کو انصاف دلائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
سانحہ
سمجھوتہ ایکسپریس کے مبینہ قاتلوں کی رہائی کے فیصلے کیخلاف کراچی پریس
کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور
بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لےجانے کےنعرے
درج تھے ۔
علاوہ ازیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سماجی کارکن ریحان صدیقی
کا کہنا تھا کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کی قاتلوں کی رہائی مسلم دشمنی اور
بھارت کی عدالتی دہشت گردی ہے،مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں لے جایا
جائے،سمجھوتہ ایکسپریس کا سانحہ آج سے 12 سال قبل یعنی 18 فروری 2007 کی
ہولناک رات کو پیش آیا۔ریحان صدیقی کا کہنا تھا کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں
دھماکے کے نتیجے میں 68 افراد جاں بحق ہوے جن میں 42 پاکستانی شہری تھے،اس
دہشت گردی میں مرکزی مجرم کمال چوہان، راجندر چوہدری، سوامی اثم آنند عرف
بنا کمار، لوکشن شرما جن کو رہا کیا گیا ان دہشت گردوں کو بھارتی فوج کے
حاضر سروس کرنل پرساد نے اسلحہ فراہم کیا تھا دہشت گردوں کی رہائی قابل
مذمت ہے۔سماجی کارکن کا مزید کہنا تھا کہ 12 سال بعد دہشت گردوں کی رہائی
نے بھارتی عدالتوں کی ساکھ کو بے نقاب کردیا ہےاس طویل مقدمہ میں
تقریبا"300 گواہ تھے جبکہ سماعت کے دوران گذشتہ 3 برس میں درجنوں سرکاری
گواہ منحرف ہوئے،بھارت میں حقوق انسانی اور مذہبی آزادی کی صورت حال
انتہائی ابتر ہوچکی ہے،بھارت میں عدالتی نظام بھی ہندو دہشتگردوں کے ہاتھ
میں دے دیا گیا ہے۔