کراچی،دودھ کی قیمتوں میں اضافے کو عوام سے مسترد کردیا
کراچی
میں دودھ کی قیمت میں اچانک 23 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا گیا ہے، ڈیری
فارمرز کا مڈل مین کو فی لیٹر دودھ 108 روپے میں بیچنے کا فیصلہ کر لیا ہے
اور اضافی قیمت پر عمل بھی شروع کردیا گیا۔
کراچی میں ڈیری فارمرز کی من
مانیاں جاری ہیں، ابھی ایک سال پہلے ہی دودھ کی قیمتوں کا مسئلہ اٹھا تھا
جس پر سندھ ہائی کورٹ نے دودھ کی قیمت 85 روپے فی لیٹر برقرار رکھنے کا حکم
دیتے ہوئے کمشنر کراچی کو اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلا کر قیمتوں کا ازسر نو
جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔
جس کے بعد گزشتہ سال کے اپریل میں دودھ کی
قیمت بڑھا کر 94 روپے فی لیٹر کی گئی تھی، تاہم صرف ایک سال بعد ہی ڈیری
فارمرز نے ایک بار پھر اندھیر مچاتے ہوئے 23 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا
ہے۔
عوام نے یہ اضافہ بری طرح مسترد کردیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ من مانا اضافہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ذرائع
ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے دودھ فروش محمد سلمان کا کہنا
تھا کہ مارچ سے قیمتیں بڑھانے کی باتیں ہورہی ہیں لیکن ابھ تک تصدیق نہیں
ہو سکی ہے دودھ کی قیمتوں میں اضافے سے دکاندار اور خریدار دونوں ہی پریشان
ہیں۔
عابد رحمان کا کہنا تھا کہ مزدوری کرکے پیٹ پال رہے ہیں ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے غریب آدمی کس طرح پورا کرے گا۔
دکاندار محمد ارشد کا کہنا ہر کوئی کہ رہا ہے کہ میرے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے لیکن ہر طرف سے دکاندار ہی پس رہا ہے۔