کینیڈین عوام ٹروڈو کے حوالے سے پہلے ہی بہت کچھ جانتے ہیں،جین فلپوٹ
سابق لبرل کابینہ رکن جین فلپوٹ اب ایک آزاد کابینہ رکن بن چکی ہیںتاکہ وہ بحیثیت کابینہ رکن اپنا دور پورا کرسکیں اور ایس این سی لاویلن معاملے پر اپنا دفاع کر سکیں۔
مقامی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں جین فلپوٹ نے اپنے لبرل رکن بنے رہنے کے حوالے سے کی جانیوالی محدود کوششوں اور کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے حوالے سے خیالات کا اظہار کیا۔
گزشتہ ماہ سابق اٹارنی جنرل جوڈی ولسن رےبولڈ کے ساتھ جین فلپٹ کو لبرل کاکس سے نکال دیا گیا تھا،دونوں خواتین کی وابستگی ایس این سی لاویلن معاملے سے تھی جس میں ولسن رےکو اس الزام کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ وہ مجرممانی مداخلت کی مرتکب پائی گئی تھیں۔
فلپٹ نے 4 مارچ کو کابینہ کو چھوڑ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر حکومت کا دفاع نہیں کرسکتیں۔
جین فلپوٹ نے کہا کہ انہیں اپنے کئے پر کوئی افسوس نہیں ہےتاہم ایس این سی لاولین معاملے پر انکا آگے بڑھنے یا مطالعہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہےجبکہ کینیڈین عوام ٹروڈو کے ھوالے سے پہلے ہی بہت کچھ جانتے ہیں۔
فلپوٹ نے مزیدکہا کہوہ سوچتی ہیں ایس این سی لاویلن معاملے پر گلوبل اینڈ میل کی رپورٹ کی روشنی میں اہم شواہد موجود ہو سکتے ہیں جبکہ سات فروری کو انہیں اس موقع ہر لبرل کاکس سے نکالا گیا جب گلوب اینڈ میل کی رپورٹ منظر عام پر آئی تھی۔