Apr 18, 2019 07:20 pm
views : 304
Location : Domestic Place
Islamabad- 'Time to take difficult decisions', Asad Umar steps down as finance minister, will not hold any portfolio
اسلام آباد، نئے وزیر خزانہ کو بھی معاشی چیلنجر کا سامنا ہوگا، اسد عمر
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے مشکل فیصلے کیے اور نئے وزیر خزانہ کو بھی معاشی چیلنجر کا سامنا ہوگا۔
وزارت خزانہ کے قلمدان سے استعفیٰ کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس میں اسد
عمر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں ردوبدل کرنے جارہے ہیں،
مجھ سے پہلی مرتبہ وزارت سے متعلق بات کل رات ہوئی ہے، کابینہ میں مزید
تبدیلیاں آج رات یا کل تک ہوں گی۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے مجھے توانائی کی وزارت کی پیش کش کی
ہے، تاہم کابینہ سے الگ ہونے کا مقصد یہ بالکل نہیں کہ میں عمران خان کے
ساتھ نہیں، میں ان کے نیا پاکستان کے وژن کو سپورٹ کرنے میں ہمیشہ ساتھ
ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 18 اپریل 2012 کو میں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت
اختیار کی تھی اور پی ٹی آئی کے ساتھ 7 سال کا یہ سفر بہت اچھا گزرا اور
عمران خان نے مجھے کہا تھا کہ آپ ملک کی بہتری کےلیے ہمارے ساتھ آئیں، تاہم
انہوں نے یہ واضح کیا کہ میں پی ٹی آئی نہیں چھوڑ رہے اور عمران خان کے
وژن کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان تحریک انصاف اور ان کے نوجوان
کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان سب کے بغیر آج عمران خان وزیر اعظم
اور اسد عمر وزیر خزانہ نہیں ہوسکتے تھے، ساتھ ہی انہوں نے این اے 48 اور
54 کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔
معیشت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت بننے کے وقت جہاں معیشت کھڑی کی
تھی وہ پاکستان کی معیشت کی بدترین صورتحال تھی اور اس سے نکلنے کے لیے
مشکل فیصلے کیے گئے، جس سے اعداد و شمار میں بہتری بھی آئی لیکن اس کا مطلب
یہ نہیں کہ اب معیشت کے بہت اچھے حالات ہوگئے، جو نیا وزیر خزانہ آئے گا
وہ بھی ایک مشکل معیشت کو سنبھالے گا۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں وزیر اعظم کے بعد وزیر خزانہ کی
نوکری مشکل ترین ہے لیکن میں نئے وزیر خزانہ کےلیے امید کرتا ہوں کہ انہیں
مکمل حمایت ملے گی۔
پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم بہتری کی طرف جارہے ہیں، معیشت میں
بڑی جان ہے، صرف تھوڑے مشکل فیصلوں اور صبر و تحمل کی ضرورت ہے، اگر ہم یہ
فیصلے نہیں کریں گے جلد بازی کریں گے تو معیشت کا کھائی میں گرنے کا دوبارہ
خطرہ ہے۔