اورکزئی،لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر بھڑکانا
درست نہیں، وزیر اعظم عمران خان
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے کے لوگوں کو نقل مکانی
کرنی پڑی، اس کی تکلیف جانتا ہوں۔ لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر بھڑکانا
درست نہیں۔
وزیر اعظم عمران خان صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع اورکزئی
میں جلسہ عام سے خطاب خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا
کہ 27 سال پہلے میں اس علاقے میں آیا تھا،
قبائلی علاقوں میں گھوما اور ایک کتاب بھی لکھی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ چلی
تو ان علاقوں کو جانتا تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے اس لیے کہا
کیونکہ قبائلی علاقوں کے لوگ ہماری
فوج ہیں، بدقسمتی سے اس وقت جو وزیر اعظم تھا اسے قبائلی علاقوں کا نہیں
پتہ تھا۔ لوگوں کو نہیں پتہ چلا ہمارے قبائلی علاقوں میں کیسی تباہی پھیلی۔
قبائلی علاقے کے لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی، اس کی تکلیف
جانتا ہوں۔ کوئی وزیر اعظم قبائلی علاقوں میں اتنا نہیں گھوما جتنا میں جا
رہا ہوں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یقین دلاتا ہوں جو مشکلات رہیں ان قربانیوں کو
نہیں بھولیں گے، پی ٹی ایم لوگوں کی مشکلات کی صحیح بات کرتی ہے لیکن ان کا
لہجہ ہمارے ملک کے لیے ٹھیک نہیں، جو لوگ تکلیف سے گزرے ان کو اکسانا ٹھیک
نہیں، لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر بھڑکانا درست نہیں، لوگوں کو بھڑکایا
جاتا ہے لیکن کوئی حل نہیں دیا جاتا، پی ٹی ایم بھڑکانے کے بجائے ان لوگوں
کی مدد کرے۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے قبائلی علاقوں کے بچوں کو تعلیم
دینی ہے۔ ہماری حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ہے نوجوانوں کو نوکریاں دینی ہیں۔
نوجوانوں کو سود کے بغیر قرضے دیں گے تاکہ روزگار چلا سکیں۔ ہماری طاقت ہے
60 فیصد پاکستانیوں کی عمر 30 سال سے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر دیں تو یہ ملک کو کہاں سے کہاں
لے جائیں، قبائلی علاقوں کو اپنے مستقبل کی ترقی کے لیے منصوبہ بندی کرنا
ہوگی۔ کوئی یہاں سرمایہ کاری کے لیے نہیں آتا تھا ہم سرمایہ کاری لائیں۔