کینیڈا کے وفاقی پرائیویسی واچ ڈاگ کا یس بک کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ
کینیڈا
کے وفاقی پرائیویسی واچ ڈاگ کی جانب سے فیس بک کے خلاف صارفین پرائیویسی لا
کی خلاف ورزی اور کینیڈین عوام کی پرسنل انفارمیشن کے تحفظ میں ناکامی پر
عدالت جانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
پرائیویسی
کمشنر ڈینیئل ٹھیرئین کیجانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فیس بک کی
جانب سے عوام کی پرائیویسی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ کینیڈینز رسک پر ہیں۔
تھیرئین
اور انکے بی سی کے ہم منصب کی جانب سے برٹش فرم کیمبرج اینالیٹکا کے
اسکینڈل میں فیس بک اور کینیڈین کمپنی ایگریگیٹ آئی کیو کے کردار کے حوالے
سے تحقیقات کی گئیں۔
کیمبرج اینالٹکا پر الزام کے کہ اس نے دو ہزار
سولہ کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کو بہتربنانے
کیلئےپچاس ملین لوگوں کا ذاتی ڈیتا اکٹھا کیا تھا۔
تحقیاتی رپورٹ کے
مطابق کینیڈا کے پرائیویسی لا میں دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت پیچھے رہ
جانے کا خدشہ بھی جبکہ کینیڈا کی جانب سے کی جانیوالی تحقیقات میں اس وقت
اہم موڑ آیا جب ایک ایپ دس از یور ڈیجیٹل لائف منظر عام پر آئی جس میں
پرسنیلٹی کوئز کے ذریعے کسی بھی صارف حتی کے اسکے فیس بک فرینڈ کی ذاتی
معلومات تک رسائی حاصل کی جاتی ہے جسے کے بعد میں کیمبرج اینالٹکا کی جانب
سے استعمال کیا گیا ۔
رپورٹ کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا بھر کے
تقریبا 87 ملین صارفین نے اپنی معلومات کو ظاہر کیا تھا، جن میں 600،000 سے
زائد کینیڈا شامل ہیں۔