داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی 5 سال بعد ویڈیو میں منظر عام پر آگئے
داعش کے
سربراہ ابوبکر البغدادی 5 سال بعد پہلی مرتبہ ایک ویڈیو میں منظر عام پر
آگئے ، ویڈیو میں دھمکی دی ہے کہ ان کا گروپ اپنے جنگجوؤں کی ہلاکت اور
انھیں پابند سلاسل کرنے کا انتقام لے گا ۔
تفصیلات
کے مطابق جنگجو گروپ داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی 2014ء کے بعد پہلی
مرتبہ ایک پروپیگنڈا ویڈیو میں منظر عام پر آگئے، یہ ویڈیو داعش کے میڈیا
نیٹ ورک الفرقان نے سوموار کے روز جاری کی ہے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں
ہوا کہ یہ ویڈیو کب فلمائی گئی تھی لیکن اس میں البغدادی ماضی کے صیغے میں
گفتگو کررہے ہیں اور وہ شام کے مشرقی قصبے الباغوز میں کئی ماہ کی شدید
لڑائی کا حوالہ دے رہے ہیں۔
اس ویڈیو میں ابو بکر البغدادی ایک فرشی
نشست پر بیٹھے نظر آرہے ہیں، وہ تین افراد سے گفتگو کررہے ہیں مگر ان کے
چہرے چھپا دیے گئے ہیں، ان کا کہنا ہے الباغوز کی جنگ ختم ہوچکی ہے۔
ویڈیو
میں وہ سوڈان اور الجزائر کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں اور سری لنکا میں
ایسٹر کے موقع پر تین گرجا گھروں اور چار ہوٹلوں پر بم حملوں کی ذمے داری
قبول کرنے کا بھی دعویٰ کررہے ہیں اور کہہ رہے یہ حملے الباغوز پر قبضے کا
ردعمل تھے۔
البغدادی نے ویڈیو میں دھمکی دی ہے کہ ان کا گروپ اپنے
جنگجوؤں کی ہلاکت اور انھیں پابند سلاسل کرنے کا انتقام لے گا، اس ویڈیو
میں فرش پر دو زانو حالت میں بیٹھا ابوبکر البغدادی کی شکل کا شخص 18 منٹ
تک گفتگو کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے اور ان کے متعدد ساتھی یہ گفتگو سماعت کر
رہے ہیں لیکن ان کے چہرے ڈھانپے ہوئے ہیں۔
اس ویڈیو کے شروع میں دکھائے
گئے تحریری مواد کے مطابق یہ اپریل کے اوائل میں فلمائی گئی تھی تاہم اس
کی تاریخ اور اس کے مصدقہ ہونے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکتی ۔
اس
سے قبل 2014ء میں البغدادی کی عراق کے شمالی شہر موصل میں واقع النوری
مسجد میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ایک ویڈیو منظرعام پر آئی تھی، جس کے بعد
گذشتہ پانچ سال کے دوران میں ان کی صوتی ریکارڈنگ کی ٹیپس انٹر نیٹ کے
ذریعے منظر عام پر آتی رہی ہیں ۔