پشاور، وزیراعظم عمران خان نے مہمند ڈیم منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا
وزیراعظم
عمران خان نے مہمند ڈیم منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے، تقریب میں آرمی
چیف جنرل قمرجاوید باجوہ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سمیت وفاقی وزراء اور
چیئرمین واپڈا لیفٹینٹ ریٹائرڈ مزمل حسین نے بھی شرکت کی۔
منظور شدہ پی
سی ون کے مطابق مہمند ڈیم 5 سال 8 ماہ میں مکمل ہو گا، جس پر309 ارب روپے
لاگت آئیگی۔ ڈیم کی تعمیر کے بعد 1.2 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش
کے ساتھ 800 میگاواٹ بجلی بھی بنائی جائیگی، چارسدہ، نوشہرہ اور پشاور
سیلابی پانی سے بھی بچ جائیں گے، دریائے سوات پر بنائے جانے والے ڈیم سے
ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ زمین کو پانی ملے گا اور 16 ہزار ایکڑ اضافی زمین کو
بھی زیر کاشت لایا جائے گا۔ پشاور کے شہریوں کو 30 کروڑ گیلن پانی میسر ہو
گا اور اس سے 52 ارب روپے سالانہ فائدہ ہوگا، ذرائع کے مطابق سی جی جی سی
اور ڈیسکون کمپنی کا جوائنٹ وینچر اس منصوبے کو مکمل کرے گا۔
مہمند
ایجنسی میں ڈیم کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم
عمران خان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو خراج تحسین پیش کرتا
ہوں، جو کام انہوں نےکیا وہ کام عدلیہ کا نہیں حکومت کا تھا۔
ان کا
کہنا تھا کہ پاک فوج نے وادی تیراہ میں امن کی بڑی جنگ لڑی، پاک فوج کو
تیراہ سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے پر سلام پیش کرتاہوں جب کہ قبائلی
نوجوانوں کو اکسانے کے لیے بیرون ملک سے سازش ہورہی ہے۔
وزیراعظم
نے کہا کہ ماضی میں حکومتیں عوام کے بارے میں سوچنے میں ناکام رہیں تاہم
ہم نے پاکستان کو چین کی طرح ترقی یافتہ بنانا ہے، چین نے غریب لوگوں کو
اوپر اٹھا کر ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ افغانستان میں امن
قائم ہو، افغانستان سے تجارت کھولنے کا مطالبہ پورا کروں گا جب کہ قبائلی
نوجوانوں کو اکسانے کے لیے بیرون ملک سے سازش ہورہی ہے لہذا قبائلی علاقوں
کو اٹھانے کے لیے چاروں صوبے 3 فیصد شیئر دیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آپ پر
کوئی الزام لگتا ہے تو جواب دیں، میں نےایک سال میں 60 دستاویزات عدالت
میں پیش کیں، طاقتور سے پیسے کا حساب مانگو تو سیاسی انتقامی کارروائی کا
الزام لگاتا ہے، ان پر کرپشن کا الزام ہے تاہم بجائے صفائی پیش کرنے کے
پارلیمنٹ میں شور مچایا جارہا ہے اور کہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔
وزیراعظم
عمران خان کا کہنا تھا کہ پیسہ چوری کرنے والا کہتا ہے کہ باہر جاکرعلاج
کراناہے، ایسے ملک نہیں چلتا، اربوں روپے کی چوری میں ملوث شخص کہتا ہے
ذہنی دباؤ ہے، 10 سالوں میں ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب تک پہنچ
گیا، اپوزیشن کے شور کا مقصد این آر او مانگنا ہے تاہم کرپٹ لوگوں کو این
آر او دیا تو قوم سے غداری کروں گا۔