کراچی، پاکستان اسٹیل ریٹائرڈ مظلوم ملازمین ایکشن کمیٹی کا احتجاجی مظاہرہ
پاکستان
اسٹیل ریٹائرڈ ملازمین ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیل 08-2007
میں 10 ارب روپے منافع کی پوزیشن پر تھا اور 09-2008 میں ایک دم 26 ارب
روپے خسارے میں چلا گیا جس کی بنیادی وجہ حکومت کی کرپشن اور اسلام آباد سے
جاری ایس آر اوز اور کنسیشنری ایس آر اوز تھے۔اس طرح دن بدن ادارہ تباہی
کی طرف گامزن ہوتا چلا گیا۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب
کرتے ہوئے راؤ ذوالفقار علی خان اور نائب صدر آباد حسین مغل نے کہا کہ
2008 سے 2019 تک ادارے کو قرضہ اور خسارہ ملاکر 490 ارب روپے کا نقصان
ہوچکا ہے جس میں 30 ارب روپے موجودہ حکومت کے 7 ماہ کے دور کے شامل ہیں، اس
کے علاوہ دوسری طرف پاکستان اسٹیل کی پروڈکشن کی کمی اور مکمل بندش سے
گزشتہ گیارہ سالوں کے دوران اسٹیل کی درآمد پر پانچ ارب ڈالر کا بوجھ پڑا
جس سے روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
پاکستان اسٹیل
ریٹائرڈ ملازمین ایکشن کمیٹی نے اپیل کی کہ اسٹیل ملز کے اصل اسٹیک ہولڈرز
پاکستان اسٹیل کی نمائندہ یونین اور قومی سطح پر اسٹیل ملز سے منسلک اسٹیل
ڈیلرز جو اسٹیک ہولڈرز کا حصہ ہیں ان کی تجاویز پر عمل کیا جائے انہیں سنا
جائے تو پاکستان اسٹیل کی بحالی میں وفاقی حکومت کو شفاف بحالی پلان تشکیل
دینے میں آسانی ہوگی ورنہ بحران پر بحران جنم لے گا۔