کراچی،سینیئر صحافی پر تشدد کے خلاف صحافیوں کا احتجاج
حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سینئر صحافی پر تشدد کرنے والے رہنما مسرور سیال کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے پارٹی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔
کراچی پریس کلب کے اراکین کی جانب سے ہاتھوں پر کالی پٹیاں باندھ کر پی ٹی آئی رہنما کے مبینہ تشدد کے خلاف احتجاج کیا،مظاہرے میں بڑی تعداد میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں نے شرکت کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ صحافیوں اور صحافتی اداروں کے خلاف پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے منظم تشدد کے واقعات کے تسلسل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت کیا جارہا ہے۔
علاوہ ازیں کراچی پریس کلب کی گورننگ باڈی نے پریس کلب میں منعقد ہنگامی اجلاس میں واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اس پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں پر 3 دن کے لیے کراچی پریس کلب میں داخلے پر پابندی عائد ہوگی۔
پریس کلب کی گورننگ باڈی نے ملک بھر کے پریس کلبز میں صدر سے اظہار یکجہتی کے طور پر 3 دن تک پی ٹی آئی رہنماؤں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے پر زور دیا۔
اجلاس میں جس پروگرام میں یہ واقعہ پیش آیا اس کے اینکر پر بھی کراچی پریس کلب میں داخلے پر عارضی طور پر پابندی عائد کردی گئی۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی امتیاز فاران کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب جو کرنا ہوگا ہم خود کریں گےسیاسی جماعتیں اپنے رکن کے خلاف کارروائی کریں یا نہ کریں اب صحافی تنظیمیں اپنے فیلصے خود کریں گی۔