کوئٹہ، مستونگ میں منفرد قرآن لائبریری
دنیا بھر میں لائبر یریاں معلومات فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہیں لیکن قرآن مجید یا دیگرمذہبی کتب کی لائبریریاں اپنی اپنی انفرادی خصوصیات کے ساتھ موجود ہیں، پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ کی قرآن لائبریری میں دمشق،افریقہ، ترکی، سمر قند، چین، امریکہ، لبنان، جاپان سے بھی لائے گئے قرآن کے نسخے موجود ہیں۔یہ لائبریری مستونگ کے علاقے کلی غلام پڑینز میں لڑکیوں کے ایک مدرسے کے کمرے میں قائم ہے۔
لائبریری ؎ کے منتظم مولوی عبدالمومن کا دعویٰ ہے کہ اس لائبریری میں جنات کے ہاتھوں کا بادام کے چھلکوں سے لکھا ہوا قرآن مجید بھی موجود ہے اور جنات ان کے والد جنرل مولانا عبد الغفورکے پاس اس مدرسے میں قرآن پڑھنے آتے تھے جبکہ اس لائبریری میں 85 ممالک کے قرآن موجود ہیں۔
لائبریری کی دیکھ بھال سیاسی و مذہبی جماعت جمعیت علما اسلام کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفورکیا کرتے تھے اور تبلیغ کی غرض سے جس ملک بھی جاتے وہاں سے ان کو اگر قرآن پاک کا کوئی قدیم اور نایاب نسخہ ملتا تو وہ لے آتے تھے۔لیکن 2017 میں حیدری پر ہونے والے حملے سے متاثر ہوئے تھے جس کے بعد اس لائبریری کو سنبھالنے کی ذمہ داری ان کے بیٹے مولوی عبدالمومن نے لی۔
اس حوالے سے منتظم مولوی عبدالمومن کا ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرے والد مولانا عبد السلام کو قرآن پاک سے بہت محبت اور رغبت تھی۔اس لائبریری میں دمشق،افریقہ، ترکی، سمر قند، چین، امریکہ، لبنان، جاپان سے بھی لائے گئے قرآن کے نسخے موجود ہیں،اس کے علاوہ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے ہاتھ کا لکھا قرآن مجید بھی لائبریر ی کی زینت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک قرآن پاک مصحف الفی کا ہے جسے لکھنے میں 12سال لگے اور لکھنے والے نے اس کے لیے 12سال مسلسل روزہ رکھا، اس قرآن میں ہر سطر کی ابتدا الف سے کی گئی ہے اور ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ الگ الگ ڈیزائن سے لکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ لائبریری میں ہزار سال پرانا قرآن پاک بھی موجود ہے۔
لائبریری میں آئے ایک شخص اسداللہ مینگل کا کہنا تھا اللہ کا احسان ہے کہ کلی میں 85 ممالک کے نسخے موجود ہیں اور ان کے پاس موجود قرآن کے نایاب نسخوں کو لوگ دور دور سے دیکھنے آتے ہیں۔