Location : Domestic place
جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا جج ارشد ملک کی خدمات فوری طور پر واپس کی جائیں، حکومت ارشد ملک کو واپس نہ بھیج کر تحفظ دے رہی ہے، حکومت انہیں وفاق کے پاس رکھ کر کیا کرنا چاہتی ہے، ایسے کردار کے حامل جج کو بہت لوگ بلیک میل کر سکتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا ارشد ملک کو انہوں نے تعینات کروایا، کیا وہ مبینہ با اثر شخص سامنے آیا جس نے تعینات کروایا ؟ ارشد ملک کے کردار سے ججوں کے سر شرم سے جھک گئے، عجیب جج ہیں فیصلے کے بعد مجرموں کے گھر چلے جاتے ہیں، جج ارشد ملک کے کردار کے حوالے سے بہت سی باتیں دیکھنے والی ہیں، عدلیہ کی حد تک معاملہ ہم خود دیکھیں گے۔
جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کے متعلق سپریم کورٹ میں پیش ایف آئی اے تحقیقاتی رپورٹ کی تفصیلات حاصل کر لیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ پریس کانفرنس میں مریم صفدر کا مخاطب کونسا ادارہ تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ مریم سے پوچھیں۔
شہباز شریف نے بیان میں کہا جج کی ویڈیو کا مریم صفدر نے پریس کانفرنس سے چند گھنٹے قبل بتایا، ارشد ملک کی قابل اعتراض ویڈیو دیکھی نہ اس کا علم ہے، مریم صفدر نے آڈیو اور ویڈیو الگ الگ ریکارڈ کرنے کا بتایا۔ احسن اقبال، خواجہ آصف اور عطا اللہ تارڑ نے بھی دوران تفتیش شہباز شریف والا موقف اپنایا۔
ایف آئی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جج ارشد ملک نے رواں سال دو عمرے کئے، وہ 23 مارچ سے 4 اپریل 2019 اور 28 مئی سے 8 جون تک سعودی عرب میں رہے۔ مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا جج ارشد ملک کی 16 سال قبل بنائی گئی ویڈیو دیکھی نہ حاصل کی، جج کی مبینہ ویڈیو 2003 میں ملزم میاں طارق نے بنائی، ایف آئی اے نے ویڈیو کا فرانزک آڈٹ بھی کرا لیا۔