Sep 18, 2019 05:30 pm
views : 272
Location : Torkham border
Torkham PM Imran inaugurate 24 7 Torkham border crossing today
طورخم، امریکا اور طالبان مذاکرات میں رکاوٹ ہم سب کی بدقسمتی ہے ،وزیر اعظم
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا طور خم میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا دعا ہے افغانستان میں امن ہو ، افغانستان میں امن ہونےسے طورخم کاعلاقہ ترقی کرے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طورخم کے راستے سینٹرل ایشیا تک تجارت ہوگی، پشاور پاکستان کا تجارتی حب بنے گا، طور خم ٹرمینل کھولنے سے ہی تجارت میں 50 فیصد اضافہ ہوگیا ہے، اس سے تجارتی روابط بڑھنے سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
عمران خان نے کہا طورخم بارڈر24گھنٹے کھولنے کا اقدام تاریخی ہے ، تجارت بڑھے گی تو علاقے میں خوشحالی آئے گی، بارڈر سسٹم سے وسط ایشیائی قوتیں بھی مستفید ہوں گی۔
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا نظریہ نہیں ہوتا تو ملک میں جمہوریت صحیح معنوں میں نہیں چلتی، اپوزیشن کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے انھیں این آراو دے دیں، اپوزیشن کا پہلے دن سے یہی رویہ ہے کہ میں کسی طرح دباؤ میں آجاؤں۔
انھوں نے کہا دو این آراو کی وجہ سے قرضہ 6ہزار سے بڑھ کر 30ہزار ارب تک پہنچ گیا، اپوزیشن کے مقدمات ہمارے دور میں نہیں بنائے گئے ، ہم نے اداروں کو آزاد کیا ہے کسی کو تحفظ نہیں دیا۔
امریکا طالبان مذاکرات منسوخی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور طالبان مذاکرات میں رکاوٹ ہم سب کی بدقسمتی ہے ، میری پوری کوشش ہو گی امریکا طالبان مذاکرات دوبارہ شروع ہوں، افغان امن سےمتعلق معطل مذاکرات بحال کرانے کی پوری کوشش کروں گا۔
عمران خان نے کہا افغانستان میں امن کے حوالے سے اشرف غنی سے فون پر بات کی ہے، پاکستان نے افغان امن مذاکرات کے لئے بھرپور کوشش کی ، امریکا نے بھی افغان امن کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا، معلوم ہوتا مذاکرات میں کہاں رکاوٹ آئی تو ہم دور کرنے کی کوشش کرتے۔
کشمیر کی صورتحال سے متعلق وزیراعظم نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے 80لاکھ لوگوں کو محصور کررکھاہے، بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ ان پر اب قبضہ ہوچکا ہے ، انتہاپسند ہندو آرایس ایس نے بھارت پر قبضہ کرلیا ہے ، آرایس ایس کی پالیسی نفرت سے بھری ہوئی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنرل اسمبلی اجلاس میں کشمیر کاز کو بھر پور طریقے سے اٹھاؤں گا، وعدہ کرتا ہوں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں ایسے اٹھاؤں گا کہ کسی نے آج تک نہ اٹھایا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیر کو امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوگی ، افغان امن مذاکرات معطل ہونے کا زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے، افغان امن مذاکرات کی بحالی کیلئے پورا زور لگائیں گے ، افغان امن مذاکرات پر معاہدہ بالکل قریب تھا، طالبان نے افغان الیکشن میں حصہ نہ لیا تو پھر یہ بڑاالمیا اور افسوسناک ہوگا۔