کوئٹہ،مستونگ کا پولیس اہلکار بچوں کے علاج کیلئے حکومت اور مخیر حضرات کا منتظر
صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ کا ایک پولیس ملازم کی چار بچوں میں سے تین جسمانی طور پر معذور ہیں، کم تنخواہ میں ان کے لیے ان بچوں کا علاج کرانا ممکن نہیں،انہوں نے مخیر حضرات سے بچوں کے علاج میں مدد کی درخواست کی ہے۔
مجبور اور بے بس باپ غلام صدیق چھٹی پر اپنے بچوں کا دل لبھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ،مستونگ پولیس کے اس سپاہی کے چار بچوں میں تین جسمانی طور پر معذور ہیں ۔
غلام صدیق کہتے ہیں کہ ان کے بچے ایک ایسی بیماری میں مبتلاہوگئے ہیں جس کے باعث وہ چل پھر نہیں سکتے ،وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے بچوں کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن مزید ان کے لیے علاج کرنا ممکن نہیں۔
غلام صدیق کی 12سالہ بیٹی بی بی ثمیہ کہتی ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ اسکے بیمار بہن بھائی ان کی طرح اسکول جائے،والدہ بیمار ہونے کے باعث،بیمار بھائیوں کی خدمت ثمینہ کی کندھوں پر ہے ۔
ثمینہ اور ان کے والد نے حکومت اور مخیر حضرات سے بچوں کے علاج معالجہ میں مدد کی اپیل کی ہے۔
غلام صدیق کا کہنا ہے کہ ان میری تنخواہ میں ان بچوں کا علاج نہیں ہوسکتا،حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ بچوں کے علاج کیلئے میری مدد کرے۔