کراچی،زلزلے اور انکی وجوہات کے حوالے سے خصوصی رپورٹ
زلزلے کیوں آتے ہیں؟
زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلے تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔
پاکستان کا دوتہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔ پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجے کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزلے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جاسکتے ہیں۔
تباہ کن زلزلوں میں 26 دسمبر 2004ء کو انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں 9 اعشاریہ 1 شدت کے زلزلے میں دو لاکھ 27 ہزار سے زیادہ افراد لقمہ اجل بنے۔ 12 جنوری 2010ء کو ہیٹی میں 7 درجے کے زلزلے نے دو لاکھ 22 ہزار سے زیادہ زندگیوں کے چراغ گل کئے۔ 12 مئی 2008ء میں چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان میں 7 اعشاریہ 8 قوت کے زلزلے میں 87 ہزار افراد ہلاک اور پونے چار لاکھ زخمی ہوئے جبکہ 8 اکتوبر 2005ء میں پاکستان کے شمال اور مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں 7 اعشاریہ 6 طاقت کے زلزلے میں 73 ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہوگئے تھے۔