مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی،جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا مارچ دوسرے روز میں داخل
مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا مارچ دوسرے روز میں داخل ہوگیا ہے۔
یاسین ملک کی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی کال پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمعہ کی رات سے ضلع بھمبر پہنچنا شروع ہوئے۔ مارچ کا اہتمام جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ہزاروں کی تعداد میں لوگ آزاد کشمیر کے علاقے گڑھی ڈوپٹہ میں موجود ہیں، جہاں سے مارچ کے شرکا اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہونگے۔ شرکا چکوٹھی سے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے لئے مارچ شروع کردیا گیا ہے۔مارچ کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ اور انسانیت سوز مظالم پر عالمی دنیا کی توجہ مبذول کروانا ہے۔ آزادی مارچ میں بزرگ، خواتین اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شریک ہیں۔مارچ کے شرکا کو لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لئے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔ کمشنر مظفرآباد ڈویژن کا کہنا ہے کہ مارچ کرنے والے شہریوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولا باری کا خدشہ ہے۔ جس سے شہریوں کا جانی نقصان ہوسکتا ہے۔
کمشنر مظفر آباد کا مزید کہنا تھا کہ جلوس کے شرکا سے اپیل ہے کہ ایل او سی کے قریب اجتماع سے پرہیز کریں۔ دوسری جانب لبریشن فرنٹ کے قافلے کو لائن آف کنٹرول چکوٹھی بڑھنے سے روکنے کے لیے چناری کے قریب جسکول کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے، جب کہ راستوں کو کنٹینر لگا کر بلاک کیا گیا ہے۔