اسلام آباد،مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کو روکنے کے لیے حکومت کی نئی حکمت عملی
مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کو روکنے کے لیے حکومت نے نئی حکمت عملی بنا لی اور مذاکرات کےلئے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں بننےوالی کمیٹی میں سینئر سیاست دانوں کو بھی شامل کرنےکا فیصلہ کر لیا۔
وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے حوالے سے وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں 4 رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی میں چاروں صوبوں کے پارٹی نمائندے شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اب کمیٹی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر،اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالہیٰ اوراسد عمر کو بھی شامل کیے جانے کاامکان ہے ۔
دوسری جانب سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ نہ انہیں کسی حکومتی کمیٹی کا علم ہے اور نہ ہی کسی نے ان سے رابطہ کیا ہے، مذاکرات صرف وزیراعظم کے استعفے کے بعد ہوں گے۔
ن لیگ کی جانب سے مولانا کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کی مذمت کی گئی ہے۔
ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے احتساب عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانونی اور آئینی طور پر پیمرا کی ایسی کوئی شق نہیں کہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر پر پابندی لگائی جائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کررکھا ہے تاہم مارچ میں شرکت کے حوالےسے دو بڑی جماعتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔