Oct 23, 2019 01:03 pm
views : 300
Location : Domestic Place
Karachi- Pakistani Artists have expressed concern over false accusations of people using the "Me Too" campaign and the worldwide campaign against sexual harassment.
کراچی، ’می ٹومہم‘ کا غلط استعمال ہونے پرپاکستانی فنکارآگ بگولہ
http://www.tnnasia.tv
جنسی ہراسانی کے خلاف پوری دنیا میں چلائی جانے والی تحریک ’’می ٹو‘‘ کے غلط استعمال اورمی ٹو مہم کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں پر جھوٹے الزامات لگانے پر پاکستانی فنکاروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
چند روز قبل لاہورکے ایم اے او کالج میں انگریزی پڑھانے والے لیکچرار افضل محمود نے ایک خاتون طابعلم کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزام اور تحقیقات کے بعد یہ الزامات غلط ثابت ہونے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے تصدیقی خط جاری نہ ہونے پر خودکشی کرلی تھی۔
لیکچرارافضل محمود کی خودکشی کے بعد ’’می ٹو مہم‘‘ کے غلط استعمال اور اس تحریک کا نام لے کر کسی شخص پر جھوٹے الزامات لگانے پر پاکستانی فنکار بھی صدمے میں ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا اظہار کررہے ہیں۔
پاکستان کے نامورگلوکار علی ظفرپرگلوکارہ میشا شفیع ’’می ٹو‘‘ مہم کے تحت جنسی ہراسانی کا الزام لگا چکی ہیں، تاہم علی ظفر نے اپنے اوپرلگنے والے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں جھوٹا قرارد یا ہے۔
علی ظفرنے لیکچرارافضل محمود کی خود کشی کے بعد ’’می ٹو‘‘ مہم کے غلط استعمال پراپنی آوازبلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم اے او گورنمنٹ کالج لاہورکے لیکچرار افضل محمود نے جنسی ہراسانی کے جھوٹے الزامات لگنے کے بعد خود کشی کرلی اورموت کی آغوش میں جانے سے قبل ایک نوٹ میں تحریرکیا کہ ان کی ساکھ داغدار ہونے کے بعد ان کی بیوی انہیں چھوڑ کر چلی گئی۔ افضل محمود کی موت کے بعد اب کتنے لوگ ان کے لیے آواز اٹھائیں گے؟ اور کتنے لوگ ’’می ٹو‘‘تحریک کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھائیں گے؟ افضل محمود کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟
دوسری طرف اداکارہ ماہرہ خان نے بھی افضل محمود کی موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یہ سن کر سخت غصہ آگیا کہ ایک معصوم انسان نے غلط الزامات لگنے کے بعد اپنی جان لے لی۔ اور یہ دیکھ کر میرا خون کھول اٹھتا ہے کہ کوئی شخص کسی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے بعد آزادانہ گھومتا ہے۔ چاہے آپ ’’می ٹو‘‘ تحریک کا غلط استعما کریں یا احتساب کرنے میں دیر کریں نتیجہ ایک ہی ہے،’’موت‘‘۔