اسلام آباد،اپوزیشن کے مطالبے پر استعفیٰ نہیں دوںگا،وزیر اعظم
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 2020 کے اختتام سے قبل پاکستان سرمایہ کاری کیلئے اعلی مقام بن جائے گا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے عالمی بینک کی ای اوڈی بی رینکنگ میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اوراچھی بہتری حاصل کی ہے، گذشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کی درجہ بندی میں 50 نمبروں کی کمی واقع ہوئی لیکن اب 28 درجے بہتری واقع ہوئی ہے اورہم 136 سے 108 پر پہنچ گئے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں اپنی حکومت کے ان تمام لوگوں کومبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے یہ کام کرنے کے لئے سخت محنت کی لیکن ہمیں ابھی بہت طویل سفرطے کرنا ہے۔ انشاء اللہ 2020 کے اختتام سے قبل پاکستان سرمایہ کاری کے لئے ایک اعلی مقام بن جائے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے سینر اینکرز نے ملاقات کی، ملاقات کے موقع پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے مولانا فضل الرحمان کے پیچھے بیرونی قوتیں ہیں، ان کا چارٹر آف ڈیمانڈ واضح نہیں پھر بھی ہم آزادی مارچ کی اجازت دیں گے، لیکن میں واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ اپوزیشن کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دوں گا۔
اپوزیشن کے دھرنے کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے دھرنے اور مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں بڑا فرق ہے، ہم نے تمام آپشن استعمال کرنے کے بعد سٹرکوں کارخ کیا ، مولانا نے سٹرکوں پر آنے سے پہلے کون سافورم استعمال کیا؟ مولانا کے مارچ کی وجہ سے توجہ کشمیر سے ہٹ رہی ہے، سوچنا چاہئے اس میں کس کا فائدہ ہے، ابھی مذاکرات کررہے ہیں باقی آپشن بعد میں دیکھیں گے۔
وزیر اعظم کا ایک سوال پر کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آرہا کہ اپوزیشن چاہتی کیاہے، ان کا ایک ہی مسئلہ ہے، اور وہ این آر او ہے، گرفتار رہنماؤں کو آج باہر جانے کی اجازت دوں تو زندگی اور حکومت آسان ہو جائے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت پلوامہ جیسا ایک اور ڈرامہ رچاسکتا ہے، اس حوالے سے آرمی چیف کو کہا ہے کہ فوج کو مکمل طور پر تیار رکھیں، بھارت نے کوئی بھی جارحیت کی تو بھرپور جواب دیں گے۔
مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر دنیا کی طرف سے تاریخی ردعمل آرہاہے، بھارت اب کشمیر میں بری طرح پھنس چکاہے، شروع میں ہمیں کشمیر کے معاملے پر عالمی سپورٹ نہیں ملی لیکن آج کشمیر کامسئلہ انٹرنیشلائز ہوچکاہے، یہ معاملہ مغربی میڈیا میں آنے کے بعد زیادہ نمایاں ہوا، ہم کشمیر کے حوالے سے میڈیا سنٹر بنارہے ہیں۔
نوازشریف کی طبیعت کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کہتے ہیں نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے، نوازشریف کی صحت کا معاملہ میرے ہاتھ میں نہیں اور نہ ہی میں کوئی عدالت یا ڈاکٹر ہوں، نوازشریف کے بیرون ملک علاج کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، اور اگر مریم نواز نے ملاقات کرنی ہے تو وہ فیصلہ بھی عدالت کرے گی، میں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کردی ہے کہ نوازشریف کو بہترین سہولیات فراہم کریں۔