کراچی، پاکستان کی سول سوسائٹی اور صحافی برادری نے ٹرمپ کے دو ریاستی فارمولے کو مسترد کردیا
مسلم امہ کی طرح پاکستان بھر کی سول سوسائٹی اور صحافی برادری نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل فلسطین دو ریاستی فارمولے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فارمولہ کسی بھی طور پر کامیاب نہیں ہوسکتا۔
اس حوالے سے ایک شہری کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے خطے کو نقصان ہوگا کیونکہ امریکی صدر بنیادی طور پر دنیا کو آپس میں لڑانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کا نتیجہ تو بھیانک برآمد ہوگا لیکن وقتی طور ایسا لگ رہا ہےاس طرح کے فیصلے سے وہ اپنے آپ کو مقبول کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
مقامی اخبار کے صحافی آصف شیخ کا کہنا تھا کہ بہرحال اس مسئلے کا حل سامنے آنا اچھا ہے، میرے خیال میں ہمیں امید کرنی چاہئے کہ اب دنیا کشمیر کی طرف بھی توجہ دے، دنیا کی سب سے بڑی طاقت نے اس کو محسوس کیا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنا چاہئےیہی بہت بڑا قدم ہے۔
مقامی اخبار کی خاتون ایڈیٹر رضیہ سلطانہ کا کہنا تھا کہ یہ فارمولہ کامیاب نہیں ہوگا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سے ٹرمپ آئے ہیں انہوں نے اوبامہ کے مقابلے میں جتنے بھی فیصلے کئے ہیں وہ ایک جذباتیت کے تحت کئے ہیں، اوبامہ باقاعدہ ایک لیڈر ہے جبکہ ٹرمپ کا شعبہ کشتی تھا، امریکا میں الیکشن ہونے جارہے ہیں اس کا وہاں مواخذہ بھی چل رہا ہے، اسرائیل کو خوش کرنے اور معاملے سے توجہ ہٹانے کیلئے اس طرح کا فارمولہ پیش کیا گیاہے، نائن الیون کا واقعہ بھی امریکا اور اسرائیل کا ڈرامہ تھا، اس کو کوئی بھی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔
ایک اور صحافی صحبت پلو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا جو توسیع پسندانہ رویہ رہا ہے عرب زمینوں کی طرف امریکی حمایت کے بعد یہ ایک اور آگے قدم ہوگا، لیکن زیادہ وہاں فلسطینی آبادی آباد ہے، فلسطینیوں کو نکال باہر کرکے کیسے امن قائم ہوسکتا ہے، خطے میں ایک بڑا فریق فلسطین ہے، اگر فلسطنیوں کے بغیر کوئی امن کا منصوبہ ہوگاتو وہ کسی بھی طرح سے کامیاب نہیں ہوگا۔ اس پالیسی کا سعودی عرب، فلسطین بھی مخالف ہے ایران تو پہلے ہی بڑی شدت سے اس کی مخالفت کررہا ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں سے کسی قسم کی مشاورت کے بغیر اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے دو سالہ مذاکرات کے بعد مشرق وسطیٰ اور فلسطین سے متعلق اپنا منصوبہ پیش کیا تھا جسے ڈیل آف دی سینچری کا نام بھی دیا گیا ہے۔