Jun 11, 2020 11:27 pm
views : 214
Location : Different Places
The USS Akron: One of the Worst Airship Disasters in US History
امریکی ساختہ ائر شپ ماضی کی یادوں کا حصہ
اٹھارہ سو باون میں یہ ائرشپ جو کہ اپنی طاقت کے تہت ہوا میں گھوم سکتا ہے اور با نسبت جہازوں کے وزن میں ہلکا ہوتا ہے۔
اائرشپ بنانے کا مقصد بنیادی طور پر ہوائی جازوں میں صرف ہونے والی توانائی کو بچانا تھا ، چونکے اءیرشپ ہوا کے زور سےچلتا ہے اور وزن میں ہلکا ہوتا ہے اس وجہ سے اسکو چلانے کے لئے ذیادہ توانائی کی ضرورت نہیں ہوتی اور ایندھن کا بہت کم فیصد حصہ استعمال ہوتا ہے ائرشپ کے دریافت سے ہی سے ہی ایسے بہت سہرایا اور استعمال میں لایا جانے لگا لیکن پھر کچھ یوں ہوا جس نے ائرشپ کے دور کو مکمل طور پر ختم کردیا جس کی وجہ سے آج ہمیں آسمان پر کوئی ائر شپ دیکھائی نہیں دیتا.
ہوا کچھ یوں کہ ریاست ہائےمتحدہ امریکا کی بحریہ نے امریکی کانگریس کو ساحل اور بندرگاہوں پر آبدوز گشت کے لئے لائٹر دین ایئر ہوائی اسٹیشن پروگرام کی تجویز پیش کی .. یو ایس ایس ایک رون نامی یہ طیارہ اپنی تیاری کے بعد 2 سال سروس میں رہا اس وقت کا ذیادہ تر حصہ مرمت اور آزمائشی پروازوں سے گزرتا رہا
13 اپریل 1933 میں یہ طیارہ امریکہ بحریہ کی ریڈیو ٹاورز کی پیمائش کرنے کے لئےنکلا تھا ، مشن آسان نظر آتا تھا لیکن طیارے کی ٹکنیکی مشکلات اورصحیح سےمرمت نا ہونے کی وجہ سے طیارہ تباہ ہوگیا ، اپنے سفر پر جاتے ہوئےاس طیارے کی مورنگ لائنزبری طرح الجھ گئیں اور ایئرشپ اپنا طوازن برقرار نا رکھ سکا یہ تاریخ کی بدترین تباہی تھی
اب آپ آسمان پر کوئی بھی ائرشپ نہیں دیکھ سکتے اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کی ائرشپ کو بنانے اور چلانے میں بھاری لاگت آتی ہیں ایسے بنانے اور اڑانے دونوں بہت مشکل ہے