Jun 12, 2020 11:47 pm
views : 232
Location : National Assembly
'No new taxes' in Rs7.13 trillion budget FY2021, says govt
اسلام آباد،وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جس میں نیا کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا
وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جس میں نیا کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے۔ وفاقی میزانیے کا حجم سات ہزار چھ سو ارب، ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار تین سو چوبیس ارب جبکہ انسداد کورونا کے لیے ستر ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماد اظہر کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ اسے وبا کے باعث مشکلات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کے استحکام کے لیے جو محنت کی اسے کورونا وائرس کی وجہ سے شدید دھچکا لگا۔ بدقسمتی سے اس وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ طویل لاک ڈاؤن کے ذریعے معاشی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں۔ کورونا کی وجہ سے تمام صعنتیں اور کاروبار بری طرح متاثر ہوئے۔ حکومت نے کمزور طبقے کے لیے 1200 ارب کا پیکج دیا جبکہ طبی شعبے کیلئے 75 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کاروبار میں آسانی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ وزیراعظم نے چھوٹے تاجروں کو خصوصی پیکج دیا۔ تعمیراتی شعبے کو تاریخی مراعات دیتے ہوئے ود ہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ اور اسے صعنت کا درجہ دیا گیا۔
حکومتی اصلاحات بارے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنشن کے نظام کو جدید بنانے سے 20 ارب کی بچت ہوگی۔ نجکاری کے عمل سے حکومت کے غیر پیداواری بوجھ کو کم کیا جا سکے گا۔ آسان کاروبار میں اصلاحات میں عالمی ریکنگ 136 سے 106 پر آ گئی۔ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کرکے عوام کو 70 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا۔ طویل مدتی قرضوں کے حصول میں آسانی پیدا کی گئی۔ بینکوں کو 800 ارب قرض دینے کی اجازت دی گئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کفایت شعاری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی یقینی بنائی جائے گی۔ افواج پاکستان کے مشکور ہیں جس نے کفایت شعاری مہم میں بھرپور تعاون کیا۔ کمزور طبقے کے لیے احساس پروگرام کے تحت مالی معاونت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ وبا کی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تشکیل دیا گیا۔ 200 ارب روپے روزانہ اجرت کمانے والوں کو دیئے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔ کورونا کے تدارک کے لیے 12 سو ارب روپے سے زائد کے پیکج کی منظوری دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 875 ارب روپے کی رقم وفاقی بجٹ میں رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ طبی آلات کی خریداری کے لیے 71 ارب روپے، غریب خاندانوں کے لیے 150 ارب، یمرجنسی فنڈ کے لیے 100 ارب روپے، آزاد جموں کشمیر کے لیے 55 ارب، گلگت بلتستان کے لیے 32 ارب، خیبر پختونخوا میں ضم اضلاع کے لیے 56 ارب، سندھ کے لیے 19 ارب مختص جبکہ بلوچستان کے لیے 10 ارب کی خصوصی گرانٹ رکھی گئی ہے۔