Aug 12, 2020 08:24 pm
views : 251
Location : National Assembly
Islamabad- National Assembly passes anti-terrorism bill 2020 in majority vote
قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے انسداد دہشت گردی بل 2020کی منظوری دے دی
قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے انسداد دہشت گردی بل 2020کی منظوری دے دی۔
اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون فروغ نسیم نے انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل 2020 پیش کیا۔ جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا، حکومتی اتحاد کے علاوہ اپوزیشن کی تینوں بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) نے بھی انسداد دہشت گردی بل کی حمایت کی۔
بل کے تحت کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کو قرضہ یا مالی معاونت فراہم کرنے پر پابندی ہوگی، کوئی بینک یا مالی ادارہ ممنوعہ شخص کو کریڈٹ کارڈز جاری نہیں کر سکے گا، پہلے سے جاری اسلحہ لائسنس منسوخ تصور ہوں گے اور منسوخ شدہ اسلحہ جات ضبط کر لیے جائیں گے، منسوخ شدہ اسلحہ رکھنے والے کو نیا لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا، منسوخ شدہ اسلحہ رکھنے والے کو سزا دی جاسکے گی۔
ترمیمی بل کے مطابق دہشت گردی میں ملوث افراد کو 5 کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا، قانون پر عملدرآمد نہ کرانے والے کو 5 سے 10 سال قید کی سزا ہوگی، دہشت گردی میں ملوث شخص کی سفری دستاویزات اور اکاوَنٹس منجمد کی جاسکیں گی۔
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بل کی حمایت پر وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ایف اےٹی ایف قانون سازی پر حمایت کے لیے اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، آج کا دن بہت اچھا ہے، پاکستان کے لیے حکومت و اپوزیشن ایک ہوگئے، یہ طے ہونا چاہیے کہ دہشتگردی اور اسلام میں زمین آسمان کا فرق ہے، پاکستان کی معیشیت کو بلیک سے وائٹ ہونا چاہیے، پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ منی لانڈرنگ سے متعلق سخت قوانین ہوں۔