Sep 11, 2020 02:24 pm
views : 245
Location : Different Places
Lahore- Motorway gang-rape: First cop at crime site shares harrowing account
لاہور، موٹروے زیادتی کیس، سات ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کرالئے گئے، آئی جی پنجاب
پنجاب
پولیس کی جانب سے موٹروے زیادتی کیس میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے تحقیقات
جاری ہیں اور 7 ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کرالیے گئے ہیں۔
واقعے کی
تحقیقات میں روایتی اور جدید دونوں طریقہ تفتیش کا استعمال کیا جارہا ہے
اور آئی جی پنجاب کیس میں پیش رفت کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
کھوجیوں کی
مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5کلو میٹر کا علاقہ چیک کرکے مشتبہ پوائنٹس
مارک کر لئے گئے۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیے کے
حامل15مشتبہ افرادکی پروفائلنگ کی گئی ہے۔
مختلف شواہد پر 7 مشتبہ افراد
محمدکاشف، عابد، سلمان، عبدالرحمن، حیدر سلطان، ابوبکر، اصغر علی کو حراست
میں لے کر ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار
ہے۔
تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ
ڈیٹاکا تجزیہ کیا جارہا ہے۔ لوکل کیمروں سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ
حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔
خاتون کی کال پر رسپانس کرنے
والے پہلے ڈولفن اہلکار علی عباس نے اپنے بیان میں بتایا کہ 2 بجکر 49 منٹ
پر 15 پہ کال موصول ہوئی، ہم موقع پر پہنچے تو گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا
اور اس میں کوئی نہیں تھا، ہم نے کالر کی تلاش شروع کی اور لائٹ جلائی تو
بچے کا جوتا نظر آیا، کھائی میں اترے تو دوسرا جوتا نظر آیا۔
اہلکار نے
بتایا کہ معاملہ مشکوک جانتے ہوئے ہم نے ہوائی فائرنگ بھی کی، اندھیرا بہت
تھا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، جھاڑیوں کی طرف گئے تو آواز آئی بھائی،
پاس گئے تو خاتون نے بچوں کو لپٹایا ہوا تھا، 15 پر کال کرنے والا کوئی راہ
گیر تھا جو ہمارے آنے سے پہلے جا چکا تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان
بزدار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کا کیس جلد
حل ہوگا، پنجاب پولیس پہلے بھی ایسے افسوسناک واقعات میں ملوث ملزمان کو
قانون کی گرفت میں لاچکی ہے، متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی کیلئے آخری
حد تک جائیں گے۔
معاملے پر وزیراعلی پنجاب نے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی
اور وزیرقانون پنجاب راجہ بشارت کو کنوینر مقرر کردیا ہے۔ ٹیم میں ایڈیشنل
چیف سیکرٹری ہوم، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن
پنجاب ڈاکٹرمسعودسلیم اور ڈی جی فرانزک ایجنسی شامل ہیں۔
کمیٹی تین روز
میں تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ وزیراعلی کو پیش کرے گی اور آئندہ ایسے واقعات
کی روک تھام کے لیے سفارشات بھی مرتب کرے گی۔