Sep 14, 2020 05:57 pm
views : 269
Location : Supreme Court of Pakistan
Islamabad- Judiciary shall uphold supremacy of constitution at every level, CJP Gulzar
اسلام آباد، ہرقسم کے حالات میں قانون کی بالادستی اور انصاف فراہم کیا جائے گا ، چیف جسٹس
سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کی تقریب ہوئی ، جس میں چیف
جسٹس گلزار احمد ،سپریم کورٹ کے جج، وکلا اوربار کونسل کے نمائندے شریک
ہوئے۔
چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے نئےعدالتی سال کی تقریب سے
خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوروناکی وجہ سے اس سال بے انتہا چیلنجز درپیش رہے ،
وباکےباعث عدالتی کام متاثر ہوا،مقدمات نمٹانے کی رفتار کم ہوئی، عدالتیں
بند کرنے سے نقصان کورونا کے نقصانات سے زیادہ ہوتا۔قانون کی نظر میں امیر
غریب، طاقتور اور کمزور سب برابر ہیں ، ججز کے آزاد اور دبائو میں نہ ہونے
پر ہی بنیادی حقوق کا تحفظ ہوسکتا ہے۔عدلیہ کی آزادی پر کوئی بھی اثرانداز
نہیں ہوسکتا، ہر جج نے ایمانداری اور بلا خوف وخطرانصاف کا حلف اٹھا رکھا
ہے۔
جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے تمام ججزآئین،قانون کے تحت
فرائض انجام دیتےہیں، چیف جسٹس بنا تو محسوس کیا زیر التوامقدمات بہت
زیادہ ہیں، عدالت میں زیر التوامقدمات پر اہم فیصلے کئے، مقدمات کا زیرا
التوا ہونے کا سبب غیرضروری التوا ہے ، سپریم کورٹ میں انسانی حقوق سیل میں
نئی درخواستیں جمع ہورہی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ججز پر لازم ہے
ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر آئین کا تحفظ کریں ، کورونا کے دوران بھی
زیرالتوامقدمات نمٹانے کیلئے عدالتیں فعال رہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان
کا کہنا تھا کہ عدالتی سال کے آغاز پر 42138 مقدمات زیر التوا تھے، کورونا
کے دوران7046 نئے مقدمات دائر، 5792 نمٹائے گئے ، اس وقت مجموعی طور پر
زیر التوا مقدمات کی تعداد 45455 ہے۔