Nov 14, 2020 03:23 pm
views : 265
Location : Domestic Place
Islamabad- FM Qureshi shares irrefutable evidences of India-sponsored terrorism in Pakistan, India providing weapons, financial assistance to terrorists, DG ISPR
اسلام آباد، بھارت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں شورش کو ہوا دے رہا ہے، وزیرخارجہ
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مزید خاموش نہیں رہے گا، نائن الیون کے بعد پاکستان نے فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر بھاری قیمت اٹھائی ہے، 2001ء سے 2020ء تک 19 ہزار230 دہشت گردی کے حملے برداشت کئے 25 ہزار شہیدوں کے ساتھ 80 ہزار سے زائد متاثر ہوئے پاکستان کو 126 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا، پاکستان کو اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے کئی مواقع کھونے پڑے۔
ایل او سی پر گزشتہ روز بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کی دعویدار بھارتی ریاست بدمعاش اسٹیٹ بن چکی ہے، بھارت دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کررہا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ پشاور اور کوئٹہ میں دہشتگردی واقعات کی بھارت سے پشت پناہی ہے، ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار جیسی کالعدم تنظیموں کو اسلحہ دیا جا رہا ہے، ان کو بتایا گیا ہے کہ وہ علماء اور نمایاں شخصیات پر حملے کریں، پاکستان مخالف بلوچ تنظیموں کو بھی دباؤ ڈال کر اکٹھا کیا جارہا ہے، را اور پاکستان مخالف ایجنسیاں دہشت گردی بڑھا رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے خبردار کیا ہے کہ نومبر اور دسمبر میں کراچی، لاہور اور پشاور میں بھارتی دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانےسازش میں ملوث ہیں، افغانستان میں موجود بھارتی کرنل راجیش دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ملاقاتیں بھی کی ہیں، نومبر دسمبر میں کراچی، لاہور اور پشاور میں دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے، بھارت نے حال ہی میں 30داعش دہشتگردوں کو پاکستان اورارد گرد منتقل کیا ہے، الطاف حسین گروپ کو بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را نے دو کمپنیوں کے ذریعے فنڈنگ کی۔