Nov 23, 2020 02:23 pm
views : 225
Location : Sindh High Court
Karachi- New Muslim girl Arzoo Raja refuses to go with her parents again, Sindh High Court directs Arzoo to arrange education and other facilities
کراچی، نومسلم لڑکی آرزو نے ایک بار پھر والدین کے ساتھ جانے سے انکارکردیا
نومسلم لڑکی آرزو فاطمہ نے ایک بار پھر والدین کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔
آرزو فاطمہ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی۔ اس وکیل آرزو فاطمہ نے کہا کہ میری موکلہ درخواست دائر کرنا چاہتی ہیں کہ دارالامان انتظامیہ نے انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی۔
پراسیکیورٹر نے کہا کہ یہ اغواء کا کیس نہیں، کم عمری میں شادی کا کیس ہے، نکاح کرانے والے قاضی نے اور دیگر نامزد ملزمان نے ضمانت حاصل کر لی ہے جب کہ دو ملزمان مفرور ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے نامزد ملزمان کی گرفتار کرنے کے لیے کیا کوشش کی؟ آپ کی ذمہ داری ہے کہ مفرور ملزمان کو گرفتار کریں۔
آرزو کے وکیل نے کہا کہ مقدمے کا چالان ماتحت عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے جس پر جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ آپ خاموش رہیں، اس کیس میں آپ وکیل نہیں ہیں۔
وکیل آرزو فاطمہ نے کہا کہ کیس کا فیصلہ اسلامی قوانین کے تحت کیا جائے، جس پر عدالت نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کر دیا ہے، آپ چاہیں تو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے آرزو کی تعلیم اور دیگر سہولیات کا انتظام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ داخلہ آرزو کی کونسلنگ کا بھی انتظام کرے، محکمہ داخلہ کی جانب سے روزانہ کوئی نمائندہ ایک گھنٹہ آرزو سے ملاقات کرے۔