اسلام آباد، آرمی چيف پر تنقيد سے فوج ميں غم و غصہ پايا جاتا ہے، وزیراعظم عمران خان
وزیراعظم
عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف پر تنقید سے فوج میں غم و غصہ پایا جاتا
ہے،عمران خان کاکہنا تھا کہ جنرل باجوہ برداشت کر رہے ہیں کیونکہ وہ
جمہوريت پر يقين رکھتے ہيں،کوئی اور آرمی چيف ہوتا تو فوری ردعمل آتا۔
عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن فوج پر دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ وہ جمہوری حکومت
کو گرا دیں، اس بات پر تو آرٹیکل چھ لگتا ہے اور غداری کا کیس بنتا ہے۔
وزیراعظم
کا کہنا تھا کہ میں تو دعا کر رہا ہوں کہ اپوزیشن استعفے دے میں ان کے
استعفوں کا انتظار کر رہا ہوں،ان کو دعوت دیتا ہوں کل نہیں آج استعفے
دیدیں۔یہ ملک کے لیے اچھا ہوگا، وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر اپوزیشن
ایک ہفتے تک دھرنا دے کر بیٹھ جائے تو استعفی دینے کا سوچوں گا۔
عمران
خان نے کہا کہ پی ڈی ایم جو کرناچاہتی ہے ہر چیز کیلئے تیار ہوں،مینار
پاکستان جلسے سے ان کو نقصان ہوا، میں جلسوں کا اسپیشلسٹ ہوں، یہ فلاپ شو
تھا، میں نےدیکھانہیں مگرلاہورکےلوگ جلسے میں نہیں گئے۔
وزیراعظم نے کہا
کہ ان کے پارٹی رہنما استعفے نہیں دیں گے، اسلام آباد مارچ کیلئے میں ان
کی مدد بھی کروں گا، میری ساری مددکےباوجودبھی یہ یہاں ایک ہفتہ نہیں
گزارسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن ایک ماہ پہلےبھی
کرسکتےہیں،ہم کیوں نہ کریں،شوآف ہینڈز کا مطلب اوپن بیلٹ ہوتا ہے، سینیٹ
الیکشن میں پیسہ چلتا ہے، اسی پر ہم نے اپنے ارکان نکالےتھے، اوپن بیلٹ
سےکرپشن ختم ہوگی۔