موسم سرما کے دوران صوبائی دارالحکومت سمیت بلوچستان بھر میں بیجوں کے مانگ بڑھ گئی
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موسم سرما کے دوران بیجوں کے مانگ بڑھ گئی، صوبے کے مختلف شہروں میں سردی کے موسم میں پھلوں اور سبزیوں کے بیجوں کو خشک میوے کے طور پر کھایا جاتا ہے، بلوچستان کے شہریوں کا مؤقف ہے کہ یہ بیج دیگر ڈرائی فروٹ کے مقابلے میں نہ صرف سستے بلکہ مزیدار بھی ہوتےہیں۔
سردیوں میں جو بیج کھائے جاتے ہیں ان میں تربوز ، سورج مکھی اور کدو کے بیج شامل ہیں، تاہم ان میں سے تربوز کے بیج زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں، تربوز کے بیج کی فی کلو کی قیمت پانچ سو روپے سے آٹھ سوروپے جبکہ سورج مکھی کے بیج دو سو روپے فی کلو میں دستیاب ہیں۔
ان بیجوں کو مزیدار خشک فروٹ بنانےکے لیےصاف کرکے اچھی طرح دھویا جاتا ہے جس کے بعد ان بیجوں کو دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے۔ جس کے بعد ان بیجوں کو نمک لگا کر پانچ سے چھ گھنٹوں کے لیے دھوپ میں رکھا جاتا ہے۔
تربوز اور سورج مکھی کے بیجوں کو مزید مزیدار اور ڈرائی فروٹ کی شکل دینے کے لیےبھونا جاتا ہے جس سے ان کی لذت اور بڑھ جاتی ہے۔
یہ بیج سردیوں کے موسم میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر حصوں کے عوام ڈرائی فروٹ کے طور پر بڑے شوق سے کھاتے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں جب کہ ڈرائی فروٹ خریدنا عام آدمی کی دسترس سےباہر ہوچکا ہے یہ بیج ڈرائی فروٹ کا بہترین متبادل ہیں اور نہ صرف سستے داموں مل جاتے ہیں بلکہ یہ مزیدار بھی ہوتے ہیں۔