کراچی کو قبرستان بنادیا گیا
ہے،گلیوں میں بلند عمارتیں تعمیرکر دی گئیں، چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار
احمد کہتے ہیں کہ کوئی اگر کوئی آفت آئی تو آدھا کراچی ختم ہو جائے گا
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ کراچی کو قبرستان بنا دیا گیا ہے، گلیوں میں اونچی عمارتیں بناکر پورا شہر تباہ کردیا گیا،عدالت عظمیٰ نے شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کے کیس میں وزیر اعلیٰ سندھ کو ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دےدیا۔
تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے تجاوزات کے خاتمے کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔عدالتی طلبی پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا ہم نے آپ کو رپورٹ جمع کرانے کہا تھا ؟ 2019 میں حکم کیا اب تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کوئی ایک چیز بتائیں جس پر عمل ہوا ہو، کثیرالمنزلہ عمارتیں موجود ہیں، پارکوں پر آج بھی قبضے ہیں، شارع فیصل کے اطراف دیواریں کون بنا رہا ہے۔جس پر مراد علی شاہ نے کہا میں معذرت خواہ ہوں کہ اب تک عملدرآمد نہیں ہوا۔
چیف جسٹس پاکستان نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور کمشنر کراچی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کڈنی ہل پارک دو دن میں بحال نہ ہوا تو جیل بھیج دیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مال کمانے والا ادارہ بن گیا ہے، اگر کوئی آفت آئی تو آدھا کراچی ختم ہو جائے گا۔
چیف جسٹس نے ڈی جی ایس بی سی اے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب کو نظر آتا ہے آپ لوگوں نے کراچی کے ساتھ کیا کیا ہے، افسران کی تو موج ہی موج ہے، اس شہر کو قبرستان بنادیا ہے، گلیوں میں اونچی اونچی عمارتیں بنا دیں پورا شہر تباہ کردیا ،، کوئی امریکا کوئی لندن اور کینیڈا میں بیٹھا ہے ، آپ بھی کل چلے جائیں گے امریکا ۔ چیف جسٹس کا کہنا کہ جو کچھ مردم شماری میں اس شہر کے ساتھ کیا ہے سب نے دیکھا ، حکومت کی منظوری سے شہر میں غیرقانونی تعمیرات ہوئی ہیں، لوگوں سے پیسے لے کر ساری بلڈنگز بنوا دیں، سب کو ماردیں گے آپ لوگ ابھی سے فاتحہ پڑھ دیں کروڑوں لوگوں پر، سندھ بلڈنگ کے ایک ایک آدمی کے ساتھ پورا مافیا چلتا ہے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شکر کریں سندھ حکومت نے ایئر پورٹ کسی کو الاٹ نہیں کردیا ، یہ لوگ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ کے باہر ذرائع ابلاغ عامہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس کو مطمئن کرنے کی کوشش کی، تجاوزات کو ہٹانے کا اختیار کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کا ہے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عدالت کو بتایا چالیس سال بعد شاہراہ فیصل کو تین سے چار لین کیا، طارق روڈ پر بھی مرمت کا کام کرایا، سندھ حکومت پاکستان اسٹیل ملز ٹیک اوور کرنے کو تیار ہے، وفاقی حکومت سے بات کریں گے۔