کراچی،
سپریم کورٹ نے سندھ بھر میں تمام سرکاری اراضی واگزار کرانے کا حکم دیدیا،
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ایک نہیں درجنوں پندرہ پندرہ منزلہ
عمارتیں سرکاری زمینوں پر بن گئی ہیں
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ کے روبرو زمینوں کے ریکارڈ میں جعلسازی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کتنے رفاعی پلاٹس، پارکس، سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی؟۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بتایا کہ ہم سات کروڑ فائلوں کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کرچکے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ متوازی فائلیں بھی چل رہی ہیں روز جعلسازی سامنے آتی ہے۔ مختیار کار اپنے دفتر اور گھر میں ریکارڈ بناتے ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے ٹھٹہ میں تو بہت گڑبڑ ہے ہر ایک نے وہاں مرضی سے ریکارڈ بنایا ہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز نے کہا کہ ٹریکنگ کوڈ کے زریعے 1985 تک ریکارڈ آن لائن دیکھا جاسکتا ہے، کمپیوٹرائزیشن کے دوران 2 لاکھ 45 ہزار ریکارڈ جعلی نکلا۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سپر ہائی وے پر چلے جائیں آپ کو قبضہ نظر آجائے گا کتنی زمینوں پر قبضہ ہے، سپریم کورٹ نے تمام سرکاری اراضی پر قبضوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے صوبے بھر میں سرکاری اراضی واگزار کرانے کا حکم دیا ہے۔