لندن، ایم سی سی نے باؤنسرز پر مکمل پابندی عائد کرنے کیلئے سرجوڑلئے، کھلاڑیوں کو انجری سے بچانے کیلئے انتہائی اقدام کا جائزہ لیا جانے لگا
کرکٹ حکام کو دوران میچز انجریز کا شکار ہونے پر کرکٹرز کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا خدشہ ستانے لگا ۔ اس خدشے کے پیش نظر فاسٹ بولرز سے ایک اور اہم ہتھیار چھیننے کی تیاریاں شروع ہوگئیں ہیں۔
کھیل کے قواعد وضوابط کا تعین کرنے والے میریلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) نے باؤنسرز پر ہی مکمل پابندی عائد کئے جانے کیلئے مشاورت شروع کردی۔
یہ جائزہ ایسے وقت میں شروع کیا جا رہا ہے جب فٹبال اور رگبی کو سر پر چوٹ سے یادداشت متاثر ہونے والے کھلاڑیوں کی جانب سے ملین پاؤنڈ ہرجانے کے کیسز کا سامنا ہے۔ کرکٹ میں حالیہ کچھ عرصے میں پلیئرزکو سر کی چوٹ سے بچانے کیلیے بہت سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں، مضبوط ہیملٹ تیار کی گئے، سر پر چوٹ کی وجہ سے فوری طور پر معائنے اور ڈاکٹرزکی ہدایت کے مطابق متاثرہ کھلاڑی کو کھیل جاری رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے، جب تک سر پر چوٹ کے اثرات رہتے ہیں پلیئر کی میدان میں واپسی نہیں ہوتی، کرکٹ میں تمام پروفیشنل لیول پر سر پر چوٹ کے متبادل پلیئرکو میدان میں اتارنے کا قانون نافذ اور اس پر عملدرآمد بھی ہورہا ہے۔
اس کے باوجود کرکٹ حکام کو شارٹ بالز کی وجہ سے بیٹسمینوں کے انجرڈ ہونے کا خدشہ ستاتا رہا ہے، اسی وجہ سے باؤنسرز پر مکمل طور پر پابندی کے حوالے سے مشاورت شروع ہوچکی، اگرچہ یہ بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے مگر اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔ باؤنسرز فاسٹ بولرز کا اہم ہتھیار ہیں، اس پر پابندی سے ان کی اہمیت مزید کم ہوسکتی ہے، اس وجہ سے حکام کیلیے اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ آسان نہیں ہوگا۔