Jan 29, 2021 05:46 pm
views : 251
Location : Domestic Place
Islamabad- Government of Pakistan has no agreement with Broadsheet anymore, Shehzad Akbar
اسلام آباد، حکومت پاکستان کا براڈشیٹ سے اب کوئی معاہدہ نہیں، شہزاداکبر
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایسٹس ریکوری یونٹ کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت پاکستان کا اب براڈ شیٹ سے کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ براڈ شیٹ سے متعلق تمام معاہدے ہمارے دور سے پہلے کے ہیں۔
شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ کا معاہدہ سال دوہزار میں ہوا جو دوہزار تین میں منسوخ ہوا، دوبارہ رابطہ دو ہزار آٹھ میں ہوا جس میں ایک اعشاریہ آٹھ ملین اور ایک اعشاریہ پانچ ملین ڈالرز کی رقم فراہم کی گئی، دوہزار نو میں براڈشیٹ کا پیغام آیا کہ ادائیگی غلط کمپنی کو کی گئی ہے اور اس کے بعد پروسیڈنگ شروع ہوگئی اور دوہزار اٹھارہ میں اکیس اعشاریہ پانچ ارب ڈالرز کا جرمانہ ہوا۔
معاون خصوصی نے یہ بھی بتایا کہ ہمارے دور میں ہائی کورٹ میں اپیل دائر ہوئی ، حکومت یہ کیس ہار چکی ہے، کوئی بھی نیا معاہدہ کسی کے ساتھ نہیں کیا گیا، ہم گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کام کررہے ہیں، کسی کو اضافی رقم فراہم نہیں کی گئی، مختلف فارن ایجنسیز، ورلڈ بینک کا نظام، کوآرڈینیشن و کام ہے اسی تناظر میں کام ہورہا ہے۔
شہزاد اکبر نے یہ بھی بتایا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ ریکوری نہیں کرتا ،تفصیلات دیتا ہے اور اس میں نیب، ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک کے نمائندے شامل ہیں، گزشتہ ڈھائی سال میں ایسٹس ریکوری یونٹ پر چار کروڑ ستر لاکھ اخراجات آئے، ایسٹس ریکوری یونٹ نے مجموعی طور پر تین سو انتالیس ارب تیس کروڑ کی ریکوری کی، ایسٹس یونٹ نے تین سو اٹھارہ ارب کے بیرون ملک اثاثوں کا سراغ لگایا، ایسٹس ریکوری یونٹ کی معاونت سے نیب نے دو سو نوے ارب، ایف آئی اے نےچھ ارب دس کروڑ اور ایف بی آر نے چھ ارب بیس کروڑ کی ریکوری کی، یونٹ کی نشاندہی پر بیرون ملک سینتیس ارب کے اثاثے ریکور ہوئے۔