اسلام آباد، وزیر اعظم قوم سے خطاب کے دوران اہم باتیں سامنے لے آئے
وزیر
اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی مسائل کو سمجھنے
کے سینیٹ کے الیکشن میں جو کچھ ہوا اسے سمجھنا ضروری ہے۔ سینیٹ میں گذشتہ
تیس چالیس سال سے پیسہ چلتا ہے۔ جو سینیٹر بننا چاہتا ہے وہ ارکان پارلیمنٹ
کو خریدتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے اندر ملک کی لیڈر شپ آتی ہے
اور ارکان پارلیمنٹ انہیں منتخب کرتے ہیں۔ مجھے تب سے حیرت رہی کہ سینیٹر
رشوت دے کر یہ نمائندگی حاصل کرتا ہے اور دوسری جانب قومی اسمبلی کے رکن
ضمیر بیچتے ہیں۔ تب سے اوپن بیلٹ کے لیے مہم شروع کی۔
انہوں نے کہا کہ
میں آج آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان پر کرپشن کے
مقدمات ختم کردیے جائیں اور میں انہیں مشرف کی طرح این آر او دے دوں۔
لیکن میرے انکار کرنے پر انہوں نے کوششیں شروع کردیں۔
وزیر اعظم نے کہا
کہ اپوزیشن نے اوپن بیلٹ کی مخالفت اس لیے کی کہ حفیظ شیخ اور یوسف گیلانی
کے انتخابات میں پیسا چلانا تھا۔ یوسف گیلانی کو سینیٹ انتخاب جتوا کر میرے
سر پر ان کا مقصد عدم اعتماد کی تلوار لٹکا کر این آراو حاصل کرنا تھا۔
ان
کا کہنا تھاکہ تحریک انصاف کو جتنی نشتیں ملنی تھیں وہ مل گئیں۔ سار پیسہ
یوسف رضا گیلانی پیسے تقسیم کررہے تھے۔ مجھے میرے ایم این ایز ، خواتین
ارکان پارلیمنٹ نے بتایا کہ دو دو کروڑ کی آفر ہورہی ہے۔
وزیر اعظم نے
کہا کہ میں الیکشن کمیشن سے کہنا چاہتا ہوں کہ سپریم کورٹ میں آپ نے اوپن
بیلٹ کی مخالفت کیوں کی کیا آئین چوری کی اجازت دیتا ہے۔ پھر آپ نے قابل
شناخت بیلٹ پیپزر کی مخالفت کی اگر ایسا ہوجاتا تو آج جو ہمارے ایم این اے
بکے ہیں ہم ان کا پتا لگا لیتے۔ الیکشن کمیشن نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو
نقصان پہنچایا ہے۔ آپ کو سپریم کورٹ نے موقعہ دیا تو کیا 1500 بیلٹ پیپر
پر بار کوڈ نہیں لگایا جاسکتا تھا۔ آج آپ نے ملک کی جمہوریت کا وقار
مجروح کیا ہے۔