اسلام آباد، فیصل واوڈا نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن نے بڑے ریمارکس دیدیئے، کہا ہم شکل یا جماعت دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے، ہمیں ڈکٹیٹ نہ کیا جائے
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی نااہلی کے کیس میں ریمارکس دیئے کہ ہم کسی کی شکلوں یا سیاسی جماعت کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے کتابوں کو دیکھتے ہیں
الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجہ کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے فیصل واوڈا کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں فیصل واوڈا اور ان کے وکیل کمیشن میں پیش ہوئے۔
رہنما پی ٹی آئی فیصل واوڈا نے روسٹرم پر آکر بیان دیا کہ اگر میری غلطی ہے تو پھانسی لگا دیں لیکن پہلے مجھے سنیں، میرے خلاف سیاست کی گئی اور بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، میرا پورا کیرئیر ہے، فیملی ہے، میری ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے میرے حلف نامے سے متعلق الیکشن کمیشن کو تحقیقات کا کہا ہے، الیکشن کمیشن میرے حلف نامے پرتحقیقات کرالے کہ میں نے جھوٹ بولایا نہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ میرا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے، جیسے میں نے کوئی چوری کی ہے، سعدیہ عباسی یا دیگرکو سپریم کورٹ نے اس لیے نااہل کیا کیونکہ وہ اپنی نشست پرموجود تھیں۔
الیکشن کمیشن نے درخواست گزاروں سے فیصل واوڈا کے جواب پر تحریری جواب مانگ لیا اور مزید سماعت 6 اپریل تک ملتوی کردی۔