Mar 20, 2021 04:30 pm
views : 201
Location : Domestic Place
Islamabad- Federal Cabinet approved to increase the price of electricity by Rs. 65 per unit
اسلام
آباد، عالمی مالیاتی ادارے کے کہنے پر عوام کو آٹھ سو چوراسی ارب روپے کا
ٹیکہ لگانے کیلئے بجلی کی قیمت پانچ روپے پینسٹھ پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے
کی منظوری دیدی گئی
غربت کی
ستائی عوام پر حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر مہنگائی کا بوجھ ڈالا جارہا
ہے، آئی ایم ایف کے کہنے پر وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں مجموعی طور
پر پانچ روپے پینسٹھ پیسے فی یونٹ اضافے کیلئے صدارتی آرڈیننس لانے کی
منظوری دیدی ہے۔
بجلی کی قیمت میں یہ فوری اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط
کے تحت کیا جارہا ہے جس کا مقصد بجلی صارفین سے اکتوبر تک آٹھ سو چوراسی
ارب روپے اضافی رونیو اکٹھا کرنا ہے۔
پانچ اعشاریہ پیسنٹھ روپے فی یونٹ
اضافہ چھ مرحلوں میں ہوگا جس کی وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے
منظوری دے دی ہے۔ وفاقی کابینہ نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیپرا ایکٹ میں
ترمیم کی بھی منظوری دی جس کے تحت حکومت کو بجلی پر ریونیو بڑھانے کیلئے
مزید دس فیصد سرچارج لگانے کا اختیار بھی حاصل ہوجائے گا اور وہ بجلی کی
قیمت میں 1.40 روپے فی یونٹ اضافہ کرسکے گی۔اس کا مقصد سرکولر ڈیٹ پروگرام
پر عمل درآمد کرنا ہے جس کی منظوری وفاقی کابینہ دے چکی ہے۔ کابینہ کی طرف
سے ان آرڈیننس کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ نمائندہ ٹیریسیا
دابا نے پاکستان زندہ باد کا ٹوئٹ کیا۔
پاکستان آئی ایم ایف قرضے کی
تمام شرائط پوری کرچکا ہے اور آئندہ ہفتے آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان
کیلئے قرضے کے قسط کی منظوری کا امکان ہے۔ بجلی کی قیمت میں 5.65 روپے یونٹ
اضافے کا مقصد بلز میں سے ٹیکس نکال کر 36 فیصد اضافہ ہے۔ سرکلر ڈیٹ
مینجمنٹ پلان کے مطابق اپریل 2021 سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ 6 مرحلوں
میں ہوگا جو جون 2023 تک جاری رہے گا۔بجلی کی قیمت میں دو بار اضافہ سالانہ
ٹیرف ایڈجسمنٹ اور 4 سہہ ماہی ایڈجسمنٹس کے تحت کیا جائے گا۔