Mar 21, 2021 05:58 pm
views : 228
Location : Different Places
Lahore- 'PDM leaders, workers to show up in hundreds of thousands during Maryam's NAB hearing'
اصولی فیصلہ ہوچکا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر (ن) لیگ کا ہوگا، مریم نواز
مسلم لیگ (ن) کی نائب
صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ اصولی فیصلہ ہوچکاہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن
لیڈر ن لیگ کا ہوگا،اور اصول کے تحت تمام جماعتیں اس فیصلے کی پابند رہیں
گے۔
جاتی امرا میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی
ہے، حکومت نے عوام کا کچھ نہیں چھوڑا، ابھی عوام سنھلے نہیں اور ان پر
مہنگائی کا ایک پہاڑ گرا دیا گیا ہے، حال ہی میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ
کیا گیا، اسٹیٹ بینک کو عالمی اداروں کا ذیلی ادارہ بنایا جارہا ہے، یہ لوگ
ملک کو کہاں پہنچانا چاہتے ہیں، حکومتی اقدامات ملکی دفاع کے لیے خطرہ بن
گئے، ہم پاکستان کی آذادری اور خود مختاری کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سربراہ
پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ نیب ایک کٹھ پتلی ادارہ ہے، نیب نے مریم نواز کو
26 مارچ کو طلب کیا ہے، اس طلبی نے ہمارے مؤقف کو ثابت کردیا، لیگی رہنما
کی نیب طلبی کی جو وجوہات بتائی گئی ہیں اس نے نیب کو بےنقاب کردیا ہے۔ کیا
نیب اداروں کی خدمت اور ترجمانی کے لیے بنا ہے؟ مریم نواز کی پیشی کے موقع
پر پی ڈی ایم کے کارکن اور رہنما موجود ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے
کہا کہ پی ڈی ایم متحد ہے اور اس کی 9 جماعتیں ایک سوچ پر متحد ہیں، باہمی
رابطوں سے معاملات حل کرنے کی کوشش کررہےہیں، پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے
فیصلے کا انتظارکریں گے، ان سے کہیں گے کہ وہ 9 جماعتوں کے فیصلے پر غور
کرے، ان کے ساتھ معاملات کو موثر انداز میں بہتر کریں گے اور ان کے دلائل
پر مزید غور کرنے پر تیار ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کی
نالائقی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، ان کا مستقبل ان کی اپنی
کارکردگی سے جڑا ہوا ہے، پی ڈی ایم کسی موقع پر حکومت کو پتلی گلی سے
نکلنے کی اجازت نہیں دے گی۔
لیگی رہنما نے کہا کہ کوشش ہے کہ پی ڈی ایم
میں شامل تمام جماعتیں متحد رہیں، پیپلزپارٹی کا اپنا فیصلہ ہے کہ وہ پی
ڈی ایم کے ساتھ رہے یا نہ رہے، سینیٹ الیکشن میں تمام جماعتیں یوسف رضا
گیلانی کی حمایت کررہی تھیں، اور اب اصولی فیصلہ ہو چکا ہے کہ سینیٹ میں
اپوزیشن لیڈر (ن) لیگ کا ہوگا، اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان سے بھی بات
ہوچکی ہے، اصول کے تحت تمام جماعتیں اس فیصلے کی پابند رہیں گے، کسی کی
ہارجیت کے بعد تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔