Mar 26, 2021 07:05 pm
views : 191
Location : Domestic Place
Quetta- Hafeezullah, who weaves clothes like a woman in tribal society, is proud of his profession
کوئٹہ،قبائلی معاشرے میں خواتین کی طرح کپڑوں پر کشیدہ کاری کرنے والے حفیظ اللہ کو پیشے پر فخر، کہتے ہیں اپنی بیٹی کیلئے خود تیرہ جوڑے تیار کئے ہیں
بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں خواتین کے کپڑوں پر ہاتھ سے کشیدہ کاری صرف خواتین ہی کرتی ہیں لیکن کوئٹہ میں ایک ایسا مرد ہے جو نہ صرف ہاتھ سے خوبصورت کشیدہ کاری کرتا ہے بلکہ اسے ایسے پہلے مرد بننے کا اعزاز بھی حاصل ہے جس نے اپنی بیٹی کی شادی کے کپڑوں پر کشیدہ کاری خود کی ہے۔
حفیظ اللہ کے نام سے مشہور یہ شخص خواتین کے کپڑوں پر ہاتھ سے کشیدہ کا ری کا ماہر ہے۔
قبائلی معاشرے میں کشیدہ کاری کو خواتین کا کام سمجھا جاتا ہےتاہم حفیظ اللہ اس کو عیب نہیں سمجھتے بلکہ وہ پہلے شخص ہیں جو اپنی بیٹی کی شادی کے جوڑوں پر خود کشیدہ کاری کررہے ہیں۔
حفیظ اللہ کے مطابق انہیں اس کام پر فخر ہے۔
ویسے تو بلوچستان میں روایتی کشیدہ کاری کی مختلف اقسام ہیں لیکن خوبصورت سے خوبصورت کشیدہ کاری حفیظ اللہ کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔
حفیظ اللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کے جوڑوں پر وہ تمام کشیدہ کاری کی ہیں جو کہ اس وقت بہت مقبول ہیں۔
بلوچستان میں بچی کو شادی پر والدین کی جانب سے کشیدہ کاری سے مزین پندرہ سے بیس جوڑے دیئے جاتے ہیں۔
حفیظ اللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک بیٹی کیلئے تیرہ جوڑے اپنے ہاتھ سے بنائے ہیں۔