Apr 29, 2021 06:15 pm
views : 199
Location : Domestic Place
Karachi- Special Report NA-249 Constituency
کراچی،
حلقہ این اے دو سو اننچاس کے عوام پریشان ،اسکے باوجود ہر امیدوار کو اپنی
جیت کا امکان، پانچ امیدواروں کے مابین کانٹے کا مقابلہ، ضمنی انتخاب اور
ممکنہ پوزیشن کے حوالے سے نظر ڈالتے ہیں ایک خصوصی رپورٹ پر
کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو اننچاس بلدیہ ٹاؤن کی آبادی آٹھ لاکھ ہے۔ یہ حلقہ کراچی کے دو اضلاع ضلع غربی اور ضلع کیماڑی میں آتاہے۔
عام انتخابات 2018ء میں تحریک انصاف کے فیصل واوڈا کامیاب قرار دئے گئے تھے اور دہری شہریت کے حوالے سے حلف نامے میں مبینہ غلط بیانی کے خلاف کیس کے بعد انہوں نے 3 مارچ 2021ء کو استعفیٰ دیا ۔
الیکشن کمیشن کے مطابق حلقے میں 2100 سے زائد انتخابی عملہ اور 3 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے۔
ن لیگ کی پوزیشن 90ء سے مستحکم ہے۔ عام انتخابات میں ن لیگ کے صدر میاں شہباز شریف کو 34626 اور متحدہ مجلس عمل کے سید عطااللہ شاہ کو 10307 ووٹ ملے تھے ۔ سابق رکن فیصل واوڈا کی مبینہ مایوس کن کارکردگی کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر گروپنگ حلقے سے تحریک انصاف کے منتخب رکن سندھ اسمبلی ملک شہزاد اعوان کی ٹکٹ کے حوالے سے شدید مخالفت کو اہم قرار دیا جارہاہے۔
پاک سرزمین پارٹی کی انتخابی مہم زبردست رہی اور اسی بناء پر بعض مبصرین کا کہنا ہے سید مصطفی کمال مفتاح اسماعیل کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں ۔ عام انتخابات میں پاک سرزمین پارٹی کو 1617 ووٹ ملے تھے اور اب اگر پاک سر زمین پارٹی کے ووٹ میں چند ہزار کا اضافہ بھی ہوتا ہے تو یہ بھی بڑی کامیابی اور آئندہ کے لئے کراچی میں پی ایس پی کے لئے مثبت ثابت ہوگا۔عام انتخاب 2018ء میں قادر خان مندوخیل کو 7236 ووٹ ملے تھے اور اب پیپلزپارٹی کی کوشش ہوگی وہ اپنے ووٹ بنک میں اضافہ کرے اور اس بات کا امکان ہے کہ پیپلزپارٹی کسی حد تک اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوگی۔
اس حلقے میں سابق ایم کیوایم (22 اگست 2016ء سے پہلی والی)کا اچھا خاصا ووت بنک ہے، مگر اب وہ تین حصوں میں تقسیم ہے۔ ایم کیوایم لندن ،ایم کیوایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی۔ اس لئے ایم کیوایم پاکستان کے امیدوار کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ حالات سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ جو امیدوار اپنے حامیوں کو گھروں سے نکالنے میں کامیاب رہا وہی فائدہ اٹھاسکتا ہے ۔ خیال رہے کہ حتمی فیصلہ ووٹرز نے ہی کرنا ہے۔