May 06, 2021 04:40 pm
views : 217
Location : Domestic Place
Islamabad- illegal smuggling of Indian pangolins must be stopped, WWF
اسلام آباد،انڈین پینگولین کی نسل تیزی سے معدومی کی طرف گامزن ہے ،انڈین پینگولین کی غیر قانونی اسملنگ کی روکتھام ضروری ہے، سینیٹر فیصل جاوید کہتے ہیں جانوروں اور چرند پرند کا تحفظ حکومتی ترجیحات ہیں
انڈین پینگولین کی نسل تیزی سے معدومی کی طرف گامزن ہے جس کی ایک بڑی وجہ انڈین پینگولین کی غیر قانونی اسملنگ بھی ہے۔
اسلام آباد میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے زیراہتمام وائلڈ لائف کےتحفظ اور غیر قانونی اسملنگ کی روک تھام کے حوالے سے منعقدہ میڈیا بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر پی ٹی آئی رہنماء سینیٹر فیصل جاوید مہمان خصوصی اور دیگر شرکاء میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر رب نواز اور پروفیسر طارق محمود بھی تقریب میں شامل تھے۔
سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ میڈیا کے توسط سے پاکستان کی وائلڈ لائف کے حوالے سے آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ اس قسم کی میڈیا بریفنگ ہونی چاہئے۔ ہمیں وائلڈ لائف کو بچانا ہے، وزیر اعظم کا ویژن بھی یہی ہے۔ آگاہی دے کر پاکستان کا عالمی دنیا میں امیج بہتر کیا جاسکتا ہے۔ جانوروں اور چرند پرند کا تحفظ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ڈائریکٹر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان رب نواز کا کہنا تھا کہ انڈین پینگولین کی پاکستان میں تعداد بہت کم ہے، ڈبلیو ڈبلیو ایف ،حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر پینگولین کی نسل کو معدومی سے بچانے کیلئے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے حوالے سے جدوجہد کرنی ہوگی۔
پروفیسر طارق محمود کا کہنا تھا کہ انڈین پینگولین کی دنیا بھر میں آٹھ اقسام ہے تاہم پاکستان میں ایک قسم پائی جاتی ہے۔پینگولین کے جسم پر اسکیل ہوتے ہیں جس سے ادویات تیار کی جاتی ہے اور پینگولین کے اسکیلز کی عالمی منڈیوں میں بہت ڈیمانڈ ہے جس کی وجہ سے اسے غیر قانونی طور پر اسمگل کیا جاتا ہے۔ اسے روکنے کی اشد ضرورت ہے۔