May 08, 2021 06:23 pm
views : 226
Location : Domestic Place
Karachi: Illegal water hydrants have become an open challenge for the concerned authorities
کراچی،غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس متعلقہ حکام کیلئے کھلا چیلنج بن گئے، مختلف علاقوں میں قلت آب شدت اختیار کرگیا، متعلقہ حکام معاملے سے مجرمانہ چشم پوشی برتنے لگے
کراچی میں غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس قائم ہونے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں قلت آب سنگین شدت اختیار کرگیا ہے۔ لوگوں کی قوت خرید جواب دے گئی ہے کہ وہ ہزار دو ہزار یا تین ہزار روپے کے عوض واٹر ٹینکر خریدیں ۔
کراچی کے باسیوں کی شکایت ہے کہ انہیں ان کے حصے کا پانی نہیں مل رہا۔
اس حوالے سے ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی سترہ ملین کے قریب بتائی گئی تھی تاہم کراچی کی آبادی پچیس ملین کے قریب ہے، اس حساب سے چالیس گیلن پر کپٹا لیا جائے تو کراچی کی پانی کی ضرورت ایک ہزار ملین گیلن روزانہ بنتی ہے اور ہم کراچی کو تین مختلف ذرائع دھابیجی، حب ڈیم اور گھارو سے پانچ سو ساٹھ ایم جی ڈی پانی فراہم کررہے ہیں۔
غیر قانونی ہائیڈرنٹس کی ہٹ دھرمی متعلقہ حکام کیلئے ایک کھلا چیلنج ہے اس کے باوجود متعلقہ افسران چشم پوشی برت رہے ہیں جس کی وجہ سے کراچی کو اس کے حصے کا پانی میسر نہیں آپارہا۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے صفورا ہائیڈرنٹ کے انچارج محمد شفیق کا کہنا تھا کہ یہاں پر دو سو کے قریب ٹینکر فل کیے جاتے ہیں۔ جنرل پبلک سروس ریٹ واٹر بورڈ نے مختص کیئے ہیں جس کے بعد ایک ہزار پانی کے گیلن والے ٹینکر کی کی قیمت تیرہ سو روپے، دو ہزار گیلن پانی کے ٹینکر کی قیمت اٹھارہ سو پچاس جبکہ تین ہزار پانی کے گیلن کے ٹینکر کی قیمت تئیس سو چالیس روپے ہے۔
کراچی میں اس وقت پر سپریم کورٹ کے حکم پر چھ ہائیڈرنٹس کام کررہے ہیں جبکہ ایم ڈی واٹر بورڈ کی ہدایت پر غیر قانونی ہائیڈرنٹس کیلئے ٹیم مرتب کی گئی ہے۔
اورنگی ٹاؤن میں پانی تقسیم کرنے والی این جی او کے چیئرمین محمد اشرف وارثی کا کہنا تھا کہ ہم پچھتر سے اسی خاندانوں میں پانی تقسیم کرتے ہیں، ڈپٹی کمشنر کے ذریعے ہمیں پانی ملتا ہے۔