حکومت ملی ہے لیکن نظام کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے، فواد چوہدری
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہمیں حکومت ملی ہے لیکن نظام کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے۔
اسلام
آباد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ مرزا شہزاد اکبر کے ہمراہ
پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے
400 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرایا جو قابل تحسین ہے۔
انہوں
نے کہا کہ ہماری عدالتوں نے پاناما کیس کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں یہ
تاثر بنا کہ عدالتی نظام کرپشن کے خلاف جنگ میں حصہ ہے لیکن کچھ معاملات
میں عوام کی سوچ ہے کہ نظام تاحال تبدیل نہیں ہوسکا۔
فواد چوہدری نے کہا
کہ ’اور حقیقت بھی یہ ہی ہے کہ نظام تبدیل نہیں ہوسکا، ہم نے حکومت لی ہے
لیکن نظام کے خلاف ہمارے جنگ تاحال جاری ہے‘۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ
شہباز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے مطلب یہ ہے کہ
ان ہزاروں قیدیوں کو حقوق کو ایک طرف رکھ دیں اور انہیں بھول جائیں۔
ان
کا کہنا تھا کہ حکومت کے علاوہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو
زرداری نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کو کہتا تھا کہ تحریک چلانا چاہتے ہیں
کہ نواز شریف کو وطن واپس لائیں کیونکہ خود اپوزیشن سمجھتی ہے کہ نواز شریف
مفرر ہیں۔
علاوہ ازیں اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ
مرزا شہزاد اکبر نے کہا کہ 'مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے عدالتی فیصلے کے بعد
عوام کو گمراہ کرنا شروع کردیا ہے اور شہباز شریف کے خلاف شہزاد اکبر کے
پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں اس لیے میں یہاں 55 جلد پر مشتمل ثبوت لے کر آیا
ہوں جس میں 100 سے زائد گواہان کے دستاویزی ثبوت ہیں۔
شہزاد اکبر نے
مسلم لیگ کے رہنماؤں کو مخاطب کرکے کہا کہ 'یہ ہیں وہ ذرائع جو آپ بتانے سے
قاصر ہیں لیکن میرے پاس ہیں اور عید کے بعد ٹرائل آگے چلے گا'۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت شہباز شریف کی ضمانت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کو سوچ رہی ہے۔
انہوں
نے کہا کہ جب یہ ملک سے باہر جائیں گے تو اس کیس میں 14 ملزمان کا مقدمہ
نہیں چل سکے گا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا تارڑ پی ایس او تھے اور اب
کہتے ہیں کہ میں وکیل ہوں۔
شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ آمدن سے زائد
اثاثوں کا سوال ہمیشہ ایک پبلک اکاؤنٹ آفس ہولڈرز پر ہی اٹھتا ہے یہ صحافی
یا عام شخض پر نہیں لگایا جا سکتا۔