نیویارک، مسئلہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے، وزیر خارجہ کہتے ہیں کشمیر پر باعزت طریقے سے بات ہوئی تو کریں گےلیکن سودے بازی نہیں ہوگی
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے میں گہری مماثلت ہے، کشمیریوں کو بھی فلسطینیوں کی طرح کے مسائل کا سامنا ہے، اگر دو بھائیوں میں اختلاف ہو تو آپ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، ہم سب کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ میں آج یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر پر ہمارا موقف واضح اور دو ٹوک ہے کہ کوئی باعزت طریقے سے بات کرنا چاہیے تو کریں گے لیکن کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔
نیویارک میں پاکستان کے مستقل مشن میں پاکستانی کمیونٹی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک موسم میں پانی ہماری ضرورت سے زیادہ اور دوسرے موسم میں ضرورت سے کم میسر ہوتا ہے، جب پانی زیادہ میسر ہو تو اسے ضائع ہونے سے بچانے کے لئے کام کرنا ضروری ہے، ماضی میں آبی وسائل کے لیے کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کیا گیا، ہم نے اس حوالے سے عملی اقدامات اٹھائے ہیں، ہم تعلیم، پن بجلی اور صحت میں موثر منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقتصادی ترقی کے لئے بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی انتہائی اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کا کردار قابلِ ستائش ہے، امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کورونا وبا کے دوران جب یہ توقع کی جارہی تھی کہ زر مبادلہ کی شرح میں انتہائی کمی واقع ہو گی لیکن اقتصادی ماہرین کے تجزیے کے مطابق زر مبادلہ کی شرح میں 47 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا۔