May 26, 2021 03:04 pm
views : 244
Location : Domestic Place
Islamabad- British Virgin Island HC verdict in Reko Diq case big victory of Pakistan
اسلام آباد، ریکوڈک کیس میں ٹیتھان کمپنی کیساتھ تصفیے کا امکان ختم نہیں ہوا، فروغ نسیم کہتے ہیں کرپشن کے نتیجہ میں ہونے والا معاہدہ قانونی سرمایہ کاری کے زمرے میں نہیں آتا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ پوری قوم بالخصوص وزیراعظم اور کابینہ کو ریکوڈک کیس میں بھرپور کامیابی مبارک ہو، عالمی سطح پر ریکوڈک میں ساڑھے 6 ارب ڈالر کا ہرجانہ تھا اور کارکے سمیت متعدد عالمی مقدمات کا بھی سامنا تھا، وزیراعظم نے 2019 میں ریکوڈک کے معاملے پر مجھے کمیٹی کا سربراہ بنایا، ہم امریکہ اور انگلینڈ بھی گئے وکلاء سے ملے، بہت سے وکلاء کو تبدیل بھی کیا، انور منصور خان، خالد جاوید اور احمد عرفان اسلم نے بہت محنت کی، کارکے کیس میں احمد عرفان اسلم نے بہت محنت کی، وزارت قانون کی سفارش پر احمد عرفان اسلم کو ستارہ امتیاز دیا گیا۔
فروغ نسیم نے بتایا کہ عالمی ٹربیونل میں موقف اپنایا تھا کہ ریکوڈک معاہدہ کرپشن کے نتیجہ میں ہوا تھا، سپریم کورٹ نے ریکوڈک معاہدہ کرپشن کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا تھا، کرپشن کے نتیجہ میں ہونے والا معاہدہ قانونی سرمایہ کاری کے زمرے میں نہیں آتا۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے بی وی آئی کا فیصلہ پی آئی اے ہوٹلز سے متعلق ہے، معیشت کو سہارا دینے کیلئے بہت اہم ہے کہ ہمارا موقف عدالت میں تسلیم ہوا، ماضی میں ثالثی کا نوٹس ملنے پر ہی ٹربیونل کا دائرہ اختیار تسلیم کر لیا جاتا تھا۔
قبل ازیں ریکوڈک کیس کے فیصلہ پر ترجمان وزارت قانون و انصاف نے بیان میں کہا کہ ریکوڈک کیس کا فیصلہ پاکستان کے حق میں جاری ہونا بہت بڑی قانونی فتح ہے،برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالت کے فیصلہ سے پاکستان کے اربوں روپے کے اثاثے فروخت یا منجمد ہونے سے بچ گئے،ریکوڈک کیس میں قومی ایئر لائن پی آئی اے کے خلاف تمام فیصلے واپس ہو گئے ہیں،عدالتی فیصلہ کے بعد نیویارک اور پیرس میں قائم پی آئی اے کی زیر ملکیت روز ویلٹ ہوٹل اور اسکرائب ہوٹل پاکستان کو واپس مل گئے۔