معاشی شرح نمو 4 فیصد ہونے کے بعد اپوزیشن پھنس گئی ہے، وزیراعظم
وزیراعظم
عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن نے شروع دن سے ہمیں نااہل کہا اور اب شرح نمو
4 فیصد ہوگئی ہے تو وہ پھنس گئی ہے اس لیے اعداد و شمار کو ہی غلط کہہ رہی
ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے 'آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ' کے عنوان سے
عوام سے ٹیلی فون پر سوالات کے جوابات کے سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ
میں اپنی قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ ہر مشکل کے
بعد آسانیاں پیدا کرتا ہے اور مشکل وقت میں اللہ چاہتا ہے کہ ہم صبر کریں۔
انہوں
نے کہا کہ زندگی اونچ نیچ کا نام ہے، اصل زندگی وہ ہوتی ہے کہ جدوجہد کرکے
اوپر جاتے ہیں اورمشکل وقت میں پیچھے چلے جاتے ہیں پھر سیکھتے ہیں، جو
مشکل وقت سے ہار مانتا ہے وہ ہار جاتا ہے، جو مشکل وقت سے سیکھتا اور محنت
ہے وہ مضبوط ہوتا ہے، یہ زندگی کا سائیکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت جو
کامیابی ملی ہے اس پر مجھے خوشی ہے کیونکہ کوئی یہ امید لگا کر نہیں بیٹھا
تھا کہ تقریباً 4 فیصد گروتھ ہوگی بلکہ کئی ماہر سمجھتے ہیں کہ ساڑھے 4
فیصد یا اس سے بھی اوپر جاسکتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کی سب سے
زیادہ دو مشکلیں مہنگائی اور بے روزگاری ہے، جیسے گروتھ ریٹ بڑھتی ہے،
معیشت کا پہیہ چلنا شروع ہوتا ہے، گاڑیاں بنی شروع ہوتی ہیں جو 55 فیصد
گاڑیوں کی فروخت ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹریکٹروں اور موٹرسائیکلوں کی
فروخت مزید 60 بڑھ گئی ہے، جب یہ بننے شروع ہوتے ہیں تو روزگار ملتا ہے اور
غربت کم ہوتی ہے، یہ پہلا ایک خوش آئند قدم ہے۔
اپوزیشن کا ذکر کرتے
ہوئے انہوں نے کہا کہ ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں این آر او دے دو
گے تو آپ نااہل نہیں ہوگے، این آر او نہیں دو گے تو حکومت نہیں چلنے دیں
گے، پاکستانی فوج کو کہتے ہیں منتخب حکومت کو گرادو۔
وزیراعظم نے کہا کہ اللہ ہمیں بڑے مشکل وقت اور امتحان سے گزارا ہے اور اب ان شااللہ اس ملک کو مزید آگے بڑھتے دیکھیں گے۔
ان
کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک بورڈ بنایا ہے کہ ملک میں اتنی زیادہ ہاؤسنگ
سوسائیٹیز بنی ہیں ان کا پتہ لگائے کہ کون سی قانونی اور کون سی غیرقانونی
ہیں اور یہ سب ویب سائٹ پر آئے گا تاکہ لوگوں کے ساتھ دھوکا نہ ہو۔
خارجہ
امور کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر بات کروں گا،
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر بھارت سے ہمارے تعلقات اچھے ہوں، ایک طرف
ہمارے پاس دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، دوسری طرف بھارت ایک ارب سے زائد
آبادی کے ساتھ بڑی مارکیٹ ہے، تو ہمارے رابطے ہوں اور تجارت شروع ہوجائے تو
سب کو فائدہ ہوتا ہے، جب یورپی یونین بنی تھی تو سب کو فائدہ ہوا تھا۔
انہوں
نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت سے ہمارے تعلقات اچھے ہوں،اگر ہم
اس وقت بھارت سے تعلقات معمول پر لاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم کشمیر کے
لوگوں سے بہت بڑی غداری کریں گے، ان کی ساری جدوجہد اور تقریباً ایک لاکھ
شہدا کو نظر انداز کریں گے، اس میں کوئی شک نہیں ہماری تجارت بہتر ہوگی
لیکن کشمیر کا خون ضائع ہوجائے گا، لہٰذا یہ نہیں ہوسکتا۔