جاپان میں ایٹی فضہ ملا پانی سمندر میں پھینکنے کے خلاف کراچی میں احتجاج
کراچی
میں سول سوسائٹی کی جانب سے جاپان میں آلودہ پانی کو سمندر میں چھوڑنے کے
خلاف احتجاج کیا گیا ،مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر
جوہری فضلے سے آلودہ پانی کو سمندر میں چھوڑنے کے خلاف نعرے درج
تھے،مظاہرین نے جاپانی حکومت کے اس عمل کو سمندری حیات کیلئے خطرناک قرار
دیا اور جاپانی حکومت سے اس پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی۔
مظاہرین کی
جانب سے فوکوشیما ایٹمی پلانٹ کے جوہری فضلے سے آلودہ پانی کو سمندر میں
چھوڑنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا،ان کا کہنا ہے کہ اس سے
سمندری حیات کو نقصان پہنچنے کا شدید اندیشہ ہے۔
مظاہرے میں شریک ڈاکٹر
عدنان عالم خان کا کہنا تھا کہ اس پانی میں ریڈیو ایکٹو دھاتیں شامل ہیں،
جو سمندری حیات اور انسانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں،تابکاری
مواد سمندر میں چھوڑنے سے لوگوں میں کینسر کا خطرہ بڑھ جائے گا، جو کہ کسی
طور بھی قابل قبول نہیں،جاپان کی ایک یونیورسٹی نے اسکا حل بھی بتایا ہے جس
پر وہاں کی حکومت کو غور کرنا چاہیے۔
کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات
کے پروفیسر عامر عالمگیر کا کہنا تھا کہ ٹریٹیم آبی حیات کے لیے مضرِ صحت
ہے اور اگر خوراک کے ذریعے مچھلیوں میں شامل ہو جائے تو انسانی صحت کے لیے
بھی نقصان دہ ہو گی۔
واضح رہے کہ جاپان میں دس برس پہلے زلزلے اور
سونامی نے فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ سمیت وسیع رقبے پر زبردست تباہی پھیلائی
تھی۔ اس سانحے میں 18500 لوگ مارے گئے یا لاپتہ ہو گئے تھے۔
سن 2011
میں آنے والے بڑے پیمانے پر زلزلے اور سونامی کی وجہ سے شمال مشرقی جاپان
میں قائم ایٹمی پلانٹ کے تین ری ایکٹروں میں بڑے پیمانے پر پگھلاؤ ہوا تھا۔
تابکار ریکٹرز کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی ہولڈنگز انک نے تقریبا ایک ہزار ٹینک پانی استعمال کیا تھا۔
پڑوسی ملکوں اور ماحولیاتی تنظیموں کی طرف سے اس کی مذمت کی جا رہی ہے۔