Jun 02, 2021 03:18 pm
views : 231
Location : Domestic Place
Islamabad- Pakistan, Tajikistan sign trade, investment, defense, energy, culture and education co-operation agreements
اسلام آباد، 5 اگست کے اقدامات واپس لئے بغیر بھارت سے تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے، وزیرا عظم کہتے ہیں اسلامو فوبیا کی وجہ سے دنیا کو اسلام کی حقیقت سے دور کیا جارہا ہے، تاجک صدر نے اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھانے کا اعلان کردیا
پاکستان اور تاجکستان کے مابین تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی، توانائی ، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے معاہدے طے پاگئے، وزیر اعظم عمران خان اور تاجک صدر امام علی رحمان نے یادداشتوں پر دستخط کردیئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تاجک صدر امام علی رحمان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتاہوں، تاجک صدر اور میری تاریخ پیدائش ایک ہے، تاجک صدر کے ساتھ بہت سیر حاصل گفتگو ہوئی، کوشش ہے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کریں، دونوں ممالک کومشترکہ چیلنجز کاسامنا ہے، دونوں ممالک کے لیے موسمی تبدیلی ایک چیلنج ہے، تاجکستان میں بھی پانی کا انحصار گلیشئرز پر ہے، پاکستان اور تاجکستان میں تجارت بہت اہمیت رکھتی ہے، ہم تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں باہمی تعاون کریں گے ۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے اقدامات واپس لینے چاہییں ، 5 اگست کے اقدامات واپس لیے بغیر بھارت سے تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے، اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا ہے، اسلام فوبیا کی وجہ سے دنیا کو اسلام کی حقیقت سے دور کیا جارہا ہے۔
تاجک صدر امام علی رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتا ہوں، وزیراعظم عمران خان سے ملاقات خوشگوار رہی ، ہم نے دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات سمیت دیگر امور پر بات کی ہے، تاجکستان پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کاخواہاں ہے، پاکستان اور تاجکستان میں مختلف شعبوں میں یاداشتوں پر دستخط خوش آئند ہے، پاکستان نے کوروناصورتحال میں بہترین اقدامات کیے، توانائی، ٹرانسپورٹ، تجارت، ثقافت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون میں فروغ کے خواہاں ہیں، گوادر منصوبہ اہمیت کاحامل ہے۔
خطے میں امن کے لیے کوششوں پر پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے تاجک صدر امام علی رحمان کا کہنا تھا کہ جغرافیائی حوالے سے پاکستان خطے کا اہم ملک ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ممالک کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ، افغانستان میں امن خطے میں امن سے مشروط ہے، پاکستان نے افغان امن عمل کے لیے اہم کردار اداکیا، پاکستان کے ساتھ ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون جاری رکھیں گے۔