Jun 04, 2021 05:04 pm
views : 260
Location : Domestic Place
Karachi- Teacher have raised hopes of ending the closure of educational institutions
کراچی،امتحانات کے حوالے سے طلباء وطالبات تذہذب کا شکار ہوگئے، اساتذہ کرائے نے ویکسی نیشن کے بعد تعلیمی اداروں کی بندش کے خاتمے کی امیدیں وابستہ کرلیں
ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں کے طلباء وطالبات امتحانات کے حوالے سے تذبذب کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ اگرچہ وفاقی وزارت تعلیم کی زیرصدارت چاروں صوبوں کے وزرائے تعلیم کے مشترکہ اجلاس میں امتحانات کے حوالے سے وضاحت کردی گئی ہے تاہم اس کے باوجود طلباء وطالبات کی تیاری نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس حوالے سے معروف استاد حاجی عبدالرزاق پردیسی نے کہا ہے کہ کورونا کا اثر جب مارچ دوہزار انیس میں پڑا تو اس وقت اسکولوں کو اور اداروں کی طرح پریشانیاں اٹھانی پڑیں۔ فوری طور پر اسکول بند کردیئے گئے، اپریل دو ہزار انیس سے آن لائن سسٹم کا آغاز کردیا گیا، بہت مشکلات پیش آرہی تھیں کیونکہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔دو ہزار انیس سے کورونا کی وجہ سے بچے پڑھائی میں بہت پیچھے رہ گئے، ایک ڈیڑھ سال میں کورونا کی چھٹیوں کے اندر گھروں میں رہ کر بند رہنے کی وجہ سے بچوں میں اسٹریس کے ایشوز بہت بڑھ گئے۔ بچے گھروں میں زیادہ ٹی وی اور موبائل میں لگے رہتے ہیں جس کی وجہ سے والدین کو بہت پریشانیاں پیش آرہی ہیں۔
حاجی عبدالرزاق پردیسی کا مزید کہنا تھا کہ اللہ کرے کورونا کا مرض جلدی چلا جائے، بچے جب واپسی اسکولوں میں آئیں گے ریکوری میں چھ ماہ لگے گیں،آن لائن ایجوکیشن سسٹم میں حاضری بہت اچھی ہوگئی ہے اس کے علاوہ ہم نے غیر نصابی سرگرمیاں بھی متعارف کرائیں ہیں اور بچوں کو متحرک کرنے کیلئے پلانٹیشن بھی کروائی گئی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سروے کے مطابق پچیس سے تیس فیصد بچے اسکول سے نکل چکے ہیں، والدین نے فیس کے ڈر سے بچوں کو نکلوالیا ہے،مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے بچے گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔کورونا کی وجہ سے بہت مفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔تعلیمی اداروں کی مزید بندش سے طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ رہا ہے، امید ہے وباء جلد ختم ہوجائے گی۔